Al-Risala · June 1998 · page 18

میانہ روی

الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۱۸

میانہ روی

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ــــ وہ آدمی تنگ دست نہیں ہوگا جو اعتدال کا طریقہ اختیار کرے (ما عالی من اقتصد) تفسیر عثمانی، صفحہ ۳۶۹ اپنی آمدنی کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے بقدر ضرورت خرچ کرنا اعتدال ہے۔ اور جس آدمی کا حال یہ ہو کہ وہ آمدنی کی پروا کیے۔ بغیر ہر چیز کے لیے خرچ کرتارہے خواہ وہ ضروری ہو یا غیر ضروری تو ایسا شخص بے اعتدالی کے ساتھ خرچ کرنے والا انسان ہے۔ جو آدمی خرچ کے معاملہ میں اعتدال کی روش اختیار کرے وہ ہمیشہ خوش حال رہے گا۔ اور جو آدمی بے اعتدالی میں مبتلا ہو جائے اس کو کوئی چیز تنگ دستی اور محتاجی سے بچانے والی نہیں۔

اس اصول کا تعلق صرف مالیاتی معنوں میں آمد اور خرچ سے نہیں ہے بلکہ وہ زندگی کے تمام معاملات سے تعلق رکھتا ہے۔ آمد و خرچ کی طرح دوسرے معاملات میں بھی ایک اعتدال کا طریقہ ہے اور دوسرا بے اعتدالی کا طریقہ۔ اور اس دنیا میں کامیابی صرف اس کو ملتی ہے جو بے اعتدالی سے بچتے ہوئے اعتدال کی روش اختیار کرے۔

کسی سے آپ کی دوستی ہو تو ضروری ہے کہ آپ دوستی کو اعتدال کے دائرہ میں رکھیں۔ اگر آپ نے اس کا لحاظ نہیں کیا تو عین ممکن ہے کہ آپ کی دوستی آخر کار پشیمانی کا سبب بن جائے۔ اسی طرح کسی سے آپ کا اختلاف ہو جائے تو ضروری ہے کہ آپ اختلاف کو اختلاف کے دائرہ میں رکھیں، اس کو نفرت اور دشمنی کی حد تک نہ لے جائیں۔ اختلاف اگر اختلاف کے دائرہ میں ہو تو وہ کسی وقت ختم ہو سکتا ہے لیکن جب وہ بڑھ کر نفرت اور دشمنی بن جائے تو اس وقت اس کا ختم ہونا انتہائی حد تک دشوار ہو جاتا ہے۔ ہر آدمی کو اپنی زندگی کی تعمیر کے لیے جد و جہد کرنا پڑتا ہے۔ اس معاملہ میں بھی ضروری ہے کہ آدمی اعتدال کا انداز اختیار کرے، وہ جب بھی کوئی اقدام کرے تو احتیاط کے ساتھ اقدام کرے، وہ جب بھی کوئی منصوبہ بنائے تو خواہش کے بجائے حقیقت پسندی کی رہنمائی میں بنائے، وہ جلد نتیجہ دیکھنے کی کوشش نہ کرے بلکہ تدریج کے اصول کے مطابق اپنے کام کو آگے بڑھائے۔ اعتدال کا طریقہ کامیابی کا طریقہ ہے اور بے اعتدالی کا طریقہ ناکامی کا طریقہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues

Printed page