اسٹیٹس کو ازم
الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۱۹
اسٹیٹس کو ازم
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے اسٹیٹس کو پر راضی ہونا۔ یعنی نزاعی معاملات میں حالت موجودہ کو مان لینا، حالت موجودہ پر راضی رہتے ہوئے اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرنا۔ نزاعی معاملات میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ معاملہ ایک خاص مقام پر آکر ٹھہر جاتا ہے۔ ایک طرف فریق اول ہوتا ہے اور دوسری طرف فریق ثانی۔ نزاعی لائن کو پار کرنا دونوں میں سے کسی کے لیے بھی آسان نہیں ہوتا۔ حالات بتا رہے ہوتے ہیں کہ اگر اسٹیٹس کو (حالات موجودہ) کو بدلنے کی کوشش کی گئی تو دونوں کے درمیان سخت ٹکراؤ ہوگا۔ اور اس کے نتیجہ میں شدید تر برائی سامنے آجائے گی۔ ایسی حالت میں دانش مندی کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ مقام نزاع پر جو صورت عملاً بن گئی ہے اس کو ویسا کا ویسا باقی رکھا جائے اور اپنی کوششوں کو دوسرے مقامات عمل کی طرف موڑ دیا جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر جب عمرہ کی ادائیگی پر اصرار نہیں کیا اور وہیں سے مدینہ لوٹ آئے تو یہ وقتی طور پر اسٹیٹس کو کو مان لینے کا واقعہ تھا۔ بعض دوسرے واقعات ایسے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ مستقل طور پر اسٹیٹس کو پر راضی ہو گئے۔ اس کی نمایاں مثال کعبہ کو بنائے مشرکین پر باقی رکھنا، اور اس کو دوبارہ بنائے ابراہیم پر تعمیر نہ کرنا ہے۔
یہ طریقہ نزاعی معاملات میں بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ آدمی کی طاقت کا ہر جز صرف تعمیری کام میں خرچ ہو۔
ایک آدمی اپنی سواری دوڑاتا ہوا ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں سڑک بند ہو۔ تو وہ بند سڑک سے نہیں ٹکراتا بلکہ اپنی سواری کو موڑ کر دوسرے راستے سے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو جاتا ہے۔ اسی حکمت کا نام اسٹیٹس کو ازم ہے۔
حالت موجودہ کو ماننے ہی آدمی کو فوراً اپنے عمل کا آغاز مل جاتا ہے۔ اور اپنے عمل کے لیے صحیح نقطہ آغاز کو پالینے ہی کا دوسرا نام کامیابی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues