Al-Risala · June 1998 · page 21

درمیانی طریقہ

الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۲۱

درمیانی طریقہ

قرآن میں ہے کہ چلنے میں درمیانی چال اختیار کرو (لقمان) حدیث میں ہے کہ معاملات میں سب سے بہتر طریقہ درمیانی طریقہ ہے (خير الامور وسطها)

درمیانی طریقہ اختیار کرنا اسلام کا ایک اہم اصول ہے ۔ اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر معاملہ میں ہمیشہ ایسا کیا ہے۔ نمازوں میں آپ اکثر درمیانی سورتیں پڑھتے تھے، نہ زیادہ بڑی اور نہ زیادہ چھوٹی۔ اسی طرح تمام عبادات میں آپ ہمیشہ درمیانی انداز اختیار کرتے تھے۔ گفتگو میں آپ نہ بہت زیادہ مختصر بولتے اور نہ بہت لمبا کلام کرتے۔ بلکہ آپ کا طریقہ دونوں کے درمیان تھا۔ کھانے پینے کے معاملہ میں آپ نہ بہت زیادہ شکم سیر ہو کر کھاتے اور نہ فاقہ کشی کی مشقت اختیار کرتے۔ بلکہ ہلکی خوراک آپ کا طریقہ تھا۔

آپ نے فرمایا کہ کسی سے دوستی کرو تو دوستی میں حد سے نہ گزرجاؤ اسی طرح اگر کسی سے دشمنی ہو جائے تو دشمنی میں بھی ایک حد پر قائم رہو۔ صحابی صحابی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ہم کو تکلف اور غلو سے منع فرمایا ہے۔ اسلام میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ہر قسم کے انسانی تعلقات میں اعتدال اور توسط کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ خاندانی زندگی ، سماجی تعلقات اور ملی روابط ہر جگہ یہی مطلوب ہے کہ ہمیشہ درمیانی انداز اختیار کیا جائے۔

اپنے کمائے ہوئے مال کو خرچ کرنے کے معاملہ میں اسلام میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اس کو اعتدال کے ساتھ خرچ کرو۔ نہ تو بالکل بخیل بن جاؤ اور نہ بہت زیادہ فیاض۔ کمانے کے معاملہ میں بھی آدمی کو اعتدال کا انداز اختیار کرنا چاہیے اور اسی طرح اس کو چاہیے کہ وہ جو مال کمائے اس کو اعتدال کے ساتھ ضروری مدوں میں خرچ کرے۔

اسی طرح وہ تعلقات جن کو بین اقوامی تعلقات کہا جاتا ہے اس کے بارے میں بھی یہی طریقہ اختیار کرنا مطلوب ہے ۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ سر حدی قوتوں کے ساتھ ہمیشہ نارمل تعلق کو برقرار رکھا جائے ۔ ہمیشہ یہ کوشش کی جائے کہ ان کے ساتھ تعلق اعتدال کے دائرہ میں رہے، اعتدال کی حد سے باہر نہ جانے پائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues

Printed page