چھوٹے شر کا انتخاب
الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۲۲
چھوٹے شر کا انتخاب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور میں ایک سنگین مسئلہ وہ تھا جس کو عبداللہ بن ابی کی صورت میں جانا جاتا ہے ۔ وہ قبیلہ خزرج کا بڑا سردار تھا۔ اسلام کے خلاف وہ اتنا زیادہ بڑا مسئلہ تھا کہ خود اس کا مسلمان بیٹا عبداللہ اس کے قتل کے لیے تیار ہو گیا تھا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قتل نہیں کروایا۔ یہاں تک کہ وہ 9 ھ (۶۳۰) میں اپنی طبعی موت مرا۔ عبداللہ بن ابی کے معاملہ میں صبر و برداشت کی اس غیر معمولی پالیسی کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ عبداللہ بن ابی کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں تھا۔ اس وقت کی صورت حال بتا رہی تھی کہ یہ صرف زندہ عبداللہ اور مردہ عبداللہ کے درمیان انتخاب کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ یہاں ایک تیسری شدید تر صورت بھی ہے۔ اور وہ یہ کہ اگر اس کو قتل کروایاگیاتو یقینی طور پر قبائلی عصبیت جاگ اٹھے گی۔ بہت سے لوگ اس کے خون کا انتقام لینے کے درپے ہو جائیں گے۔ اس طرح عبداللہ بن ابی کو قتل کرنے کے عملاً اس کا خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ ایک اور شدید تر برائی جاگ اٹھے گی۔ اور وہ اپنے مقتول سردار کا انتقام ہے۔ اس اندیشہ کی پیشگی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ تھی کہ غزوہ احد کے موقع پر اس نے جنگ میں عدم شرکت کا فیصلہ کیا تو اس کے قبیلہ کے تین سو آدمیوں نے عبداللہ بن ابی کے ساتھ شریک ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ عبداللہ بن ابی کے معاملہ میں اس وقت جو انتخاب تھا وہ زندہ دشمن اور مردہ دشمن کے درمیان نہیں تھا بلکہ وہ مردہ دشمن اور اس کے بعد ظاہر ہونے والے انتقامی ردعمل کے درمیان تھا۔ ایسی حالت میں زندہ دشمن چھوٹا شر تھا اور مردہ دشمن انتقامی رد عمل کی صورت میں زیادہ بڑاشر۔ رسول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے شر سے بچنے کے لیے چھوٹے شر کو گوارا کر لیا۔
زندگی خیر و شر کے درمیان انتخاب کا نام نہیں۔ زندگی چھوٹے شر اور بڑے شر کے درمیان انتخاب کا نام ہے۔ کامیاب وہ ہے جو اس حقیقت کو جان لے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues