Al-Risala · June 1998 · page 25

حکمت حیات

الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۲۵

حکمت حیات

صلح اپنا حق وصول کرنے کے لیے نہیں ہوتی۔ صلح فریق ثانی کے شر سے بچنے کے لیے ہوتی ہے۔ فریق ثانی اگر عادل ہو تو کسی صلح کی ضرورت ہی نہیں ۔ وہ صلح کے بغیر ہی آپ کو آپ کا پورا حق دے دے گا ۔ مگر جب فریق ثانی غیر عادل ہو تو وہ آپ کو الجھا کر آپ کو اپنی تعمیر کے راستہ سے ہٹا دینا چاہے گا۔ اس وقت خدا پرست آدمی اپنے حریف سے خود اس کی شرائط پر صلح کر لیتا ہے تاکہ وہ اپنے دامن کو بے فائدہ الجھاؤ سے بچا لے اور اپنے تعمیری عمل میں مصروف ہو جائے ۔ جو لوگ اس راز کو نہیں جانتے وہ صلح کے وقت اپنے حقوق کی فہرست بنانے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اور اصرار کرنے لگتے ہیں کہ ان کے جائز حقوق انھیں لوٹائے جائیں ۔ اس قسم کی کوشش صلح کی راہ میں مستقل رکاوٹ ہے۔ اس طرح کی کوشش صرف معاملہ کو الجھاتی ہے وہ صلح کو تکمیل تک پہنچنے نہیں دیتی۔

یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ وہ غیر عادل انسانوں سے اس طرح بھری ہوئی ہے جس طرح کوئی کانٹے دار درخت کا نٹوں سے بھرا ہوا ہوتا ہے ۔ ایسی دنیا میں آدمی کی پہلی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وہ غیر عادل انسانوں سے معاملاتی الجھاؤ کی نوبت نہ آنے دے ۔ ان سے دور کا تعلق رکھتے ہوئے اپنی زندگی کا راستہ طے کرتا رہے۔

لیکن اگر کبھی کسی وجہ سے کسی غیر عادل انسان سے معاملاتی نزاع پیدا ہو جائے تو پہلی فرصت میں اس سے صلح کر کے آگے بڑھ جانا چاہیے ۔ آدمی کی ساری توجہ سفر کو دوبارہ بلارکا وٹ جاری کرنے سے ہونی چاہیے نہ کہ فریق ثانی سے اپنے حقوق کی وصولیابی پر۔

یہ صلح کوئی پسپائی نہیں، یہ با مقصد انسان کا اصول ہے ۔ جس آدمی کے سامنے کوئی مقصد نہ ہو وہی ایسا کر سکتا ہے کہ وہ صلح کو حقوق کی وصولیابی کا عنوان بنائے اور پھر اس نا قابل عمل صلح کے لیے ساری عمر لڑتا رہے ۔ اسلام میں صلح کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ، صلح کو ہر حال میں خیر بتایا گیا ۔ حتی کہ حدیبیہ کے موقع پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مخالفین سے اُن کی یک طرفہ شرائط پر صلح کر لی۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues

Printed page