Al-Risala · June 1998 · page 24

حکمت عمل

الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۲۴

حکمت عمل

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عمر کے آخری زمانہ میں مدینہ سے مکہ جاکر حج کیا۔ اس موقع پر آپ نے وہ مشہور خطبہ دیا جو خطبہ حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ اس خطبہ میں آپ نے اعلان فرمایا کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں، کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر فضیلت نہیں، سوادین اور تقویٰ کے۔ اس طرح آپ نے ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان فرق کے قدیم رواج کا خاتمہ کر دیا۔

مگر اس کے ساتھ آپ نے دوسرے موقع پر یہ بھی فرمایا کہ : (الائمۃ من قریش یعنی میرے بعد مسلمانوں کا سیاسی امام قریش میں سے ہوگا۔ یہ دوسرا بیان بظاہر پہلے بیان کے مطابق نہیں مگر یہ عدم مطابقت کی بات نہیں بلکہ عملی تقاضوں کی رعایت کرنے کی بات ہے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف تنہا نماز میں اتنا لمبا قیام فرمایا کہ آپ کے پاؤں میں سوجن آگئی۔ دوسری طرف جماعت کی نماز پڑھاتے ہوئے صف کے پیچھے سے کسی بچے کے رونے کی آواز آئی تو آپ نے مختصر سورہ پڑھاکر نماز جلد ختم کر دی۔ اس فرق سے مذکورہ معاملہ کی بخوبی وضاحت ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب معاملہ تنہا اپنی ذات کا ہو تو مومن کو چاہیے کہ وہ آئیڈیل کو اختیار کرنے کی کوشش کرے مگر جب اجتماعی معاملہ ہو اور دوسروں کے ساتھ نباہ کرنے کی ضرورت ہو تو اس وقت وہ پریکٹیکل بن جائے۔ اس دوسری صورت میں حالات کے اعتبار سے عملی تقاضوں کی رعایت کی جائے گی۔ کیوں کہ صرف وہی قابل عمل ہے۔ ایسے معاملات میں آئیڈیل کو چلانا سرے سے ممکن ہی نہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ کی ایک سنت یہ ہے کہ لوگوں سے معاملہ کرتے ہوئے صرف یہ نہ دیکھا جائے کہ آئیڈیل نقطۂ نظرکیاہے یامعیاری انصاف کیا ہوسکتا ہے۔ اس کے بجائے یہ دیکھا جائے کہ جن لوگوں کے ساتھ معاملہ پیش آیا ہے وہ کس درجہ کے لوگ ہیں اور حقیقی حالات کا تقاضا کیا ہے۔ اس طرح کا جائزہ لے کر حقیقی صورت حال کے مطابق وہ مسلک اختیار کیا جائے جو عملی طور پر ممکن ہو نہ کہ وہ مسلک جو بظاہر نظریاتی طور پر درست ہو مگر عملی طور پر اس کو اختیار کرنا ممکن نہ ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues

Printed page