Al-Risala · June 1998 · page 27

مشکل میں آسانی

الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۲۷

مشکل میں آسانی

مکی دور میں جب کہ مسلمان نہایت سخت حالات سے گزر رہے تھے، اس وقت قرآن میں یہ آیت اتری کہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے، مشکل کے ساتھ آسانی ہے (الانشراح) اس قرآنی آیت میں فطرت کا یہ قانون بتایا گیا کہ اس دنیا میں ہمیشہ مشکلات کے ساتھ مواقع موجود ہوتے ہیں۔ اس لیے بہترین عقل مندی یہ ہے کہ مشکلات سے صرف نظر کرتے ہوئے مواقع کو استعمال کیا جائے اس طرح زیادہ بہتر طور پر مستقبل کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھا جا سکتا ہے۔ عام طور پر دنیا میں لوگ ایک ہی عمل کو جانتے ہیں، اور وہ ہے مشکلات سے ٹکرا کر انھیں راستے سے ہٹانا اور اس طرح اپنے لیے راہ ہموار کرنا، مگر اسلامک ایکٹوزم یہ نہیں ہے۔ اسلامک ایکٹوزم اس کے برعکس ہوتا ہے کہ مشکلات سے ٹکرانے کے بجائے انھیں نظر انداز کرو، اور عین اسی وقت جو مواقع موجود ہیں ان کو استعمال کرو۔ کرو۔ گویااسلامک ایکٹوزم ایک لفظ میں یہ ہے کہ مشکلات کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو :

Ignore the problems, avail the opportunities.

مشکلات و مسائل کو موجودہ دنیا سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ مشکلات و مسائل کا وجود اس دنیا میں اتنا ہی حتمی ہے جتنا کہ پھول کے درخت میں کانٹا۔ اس لیے مشکلات و مسائل سے ٹکرانا فطرت کی اٹل حقیقتوں سے ٹکرانا ہے۔ اور کون ہے جو فطرت کی حقیقتوں سے ٹکرا کر انھیں بدل سکے۔ عقل مند وہ ہے جو مشکلات و مسائل کو نظر انداز کر کے مواقع اور امکانات کو تلاش کرے۔ زندگی کا کامیاب سفر ہمیشہ امکانی راہوں میں جاری ہوتا ہے نہ کہ مشکلات کی چٹانوں پر اپنا سر ٹکرانے سے۔ جس طرح درخت میں پھول اور کانٹا دونوں ہوتا ہے اسی طرح موجودہ دنیا مشکلات اور مواقع دونوں سے بھری ہوئی ہے۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ مشکلات میں نہ الجھے۔ وہ مواقع کو دریافت کر کے انھیں استعمال کرے۔ وہ شکایت اور احتجاج کا طریقہ چھوڑ کر صبر و تحمل کے ساتھ اپنا راستہ طے کرتا رہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو آخر کار کامیاب ہوں گے۔ جو لوگ اس کے برعکس روش اختیار کریں ان کے لیے خدا کی دنیا میں ناکامی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues

Printed page