Al-Risala · June 1998 · page 28

حکمت کی بات

الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۲۸

حکمت کی بات

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ــــ حکمت کی بات مومن کا گم شدہ سرمایہ ہے، وہ جہاں اسے پائے تو وہی اس کا زیادہ حق دار ہے (الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ اَيْنَ وَجَدَهَا فَهُوَ اَحَقُّ بِهَا)

اس حدیثِ رسول میں خدا پرست انسان کا مزاج بتایا گیا ہے۔ خدا پرست انسان ہر قسم کے تعصب سے پاک ہوتا ہے، وہ اپنے اور غیر میں فرق نہیں کرتا۔ وہ تمام دنیا کو خدا کی مخلوق کی نظر سے دیکھتا ہے، وہ تمام انسانوں کو خدا کا کنبہ سمجھتا ہے۔ خدا پرست انسان کا یہ مزاج اس کو آفاقی بنا دیتا ہے۔ ایسا انسان ہر چیز سے سبق لینے لگتا ہے ، وہ ہر کام کی بات کو اپنی بات سمجھتا ہے۔ اس کی آفاقی سوچ اُس کو اِس کمزوری سے بچا لیتی ہے کہ وہ کسی فائدہ کی بات کو دیکھے ، تو اس کو غیر کی چیز سمجھ کر چھوڑ دے ۔ وہ ہر اچھی بات کو خدا کی بات سمجھتا ہے ، اس لیے وہ ہر اچھی بات کو اس طرح لے لیتا ہے جیسا کہ وہ اس کی اپنی ہی بات ہو۔

خدا پرست انسان کا یہ مزاج اس کو بے پناہ بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے ذہنی خزانہ میں نئی نئی باتوں کا اضافہ کرتا رہتا ہے ۔ اس کی زندگی کبھی ٹھہراؤ کا شکار نہیں ہوتی، وہ ہر موڑ پر ایسی باتیں پا لیتا ہے جس کے ذریعہ سے وہ اپنی زندگی کے سفر کو آگے کی طرف جاری رکھ سکے ۔

دنیا میں کامیابی کا تعلق سب سے زیادہ جس چیز سے ہے وہ معلومات ہیں، جتنی زیادہ معلومات اتنی زیادہ کامیابی ۔ خدا پرست انسان اپنے دماغ کی تمام کھڑکیاں کھلی رکھتا ہے ، اس بنا پر یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ اس کی معلومات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے۔

خدا پرست انسان کا مزاج اس کو کامل طور پر علم کا طالب بنا دیتا ہے۔ نئی نئی باتوں سے اس کی روح کو غذا ملتی ہے۔ وہ درخت کی مانند ایک اضافہ پذیر وجود بن جاتا ہے۔ اس کی شخصیت مسلسل بڑھتی رہتی ہے ، یہاں تک کہ وہ تکمیل کی آخری حد پر پہنچ جاتا ہے۔ مومن ایک بے تعصب انسان ہوتا ہے۔ وہ آخری حد تک طالبِ حق ہوتا ہے ۔ اپنے اس مزاج کی بنا پر اس کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ جہاں بھی کوئی اچھی بات ملے وہ فوراً اس کو لے لے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues

Printed page