قابل اعتماد کردار
الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۳
قابل اعتماد کردار
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نبوت کے تیرھویں سال مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ یہ وہی سفر ہے جس کو ہجرت کہا جاتا ہے۔ یہ ایک بے حد نازک سفر تھا۔ مکہ کے سردار آپ کو مار ڈالنے پر تلے ہوئے تھے۔ آپ کو نہایت مخفی طور پر مکہ سے نکل کر مدینہ پہنچنا تھا۔ یہ یقینی تھا کہ جب آپ مکہ سے نکل کر مدینہ کے لیے روانہ ہوں گے تو مکہ کے سردار آپ کے پیچھے اپنے آدمی دوڑائیں گے، وہ ہر کوشش کریں گے کہ آپ کو دوبارہ پکڑ لیں۔
ان حالات میں مختلف قسم کی احتیاط ضروری تھی۔ مثلاً مکہ سے نکل کر الٹی طرف جانا، پہلے غار ثور میں قیام کرنا۔ کرنا۔ ابتداء پیدل سفر طے کرنا اور پھر راستہ میں اونٹ کی سواری اختیار کرنا، معلوم اور معروف راستہ کو چھوڑ کر غیر عادی راستہ کا سفر کرنا، وغیرہ۔ قدیم زمانہ میں جب کہ سڑکیں نہیں تھیں، اس طرح کا سفر ایک واقف کار رہنما کی مدد ہی سے ہو سکتا تھا، رہنما کے بغیر ایسا سفر طے کرنا ناممکن تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی حضرت ابو بکر صدیق نے اس سفر میں رہنمائی کے لیے مکہ کے ایک شخص کو منتخب کیا جس کا نام عبد اللہ بن ارقط تھا۔ یہ آدمی اس طرح کے لمبے سفروں میں بطور پیشہ رہنمائی کا کام کیا کرتا تھا۔ وہ اگر چہ مشرک تھا، تھا،بالفاظ دیگر، اس کا تعلق آپ کی دشمن قوم سے تھا۔ اس کے باوجود آپ نے اس نازک سفر کے لیے اسی کا انتخاب فرمایا (سیرۃ ابن ہشام ۲ صفحہ ۹۸) اس انتخاب کا سبب کیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ عبد اللہ بن ارقط اگر چہ مخالف قوم سے تعلق رکھتا تھا مگر اس کے اندر وہ چیز کمال درجہ میں تھی جس کو پروفیشنل دیانت داری کہا جاتا ہے۔ یعنی اپنے کام کے بارے میں وہ پوری طرح مخلص تھا۔ وہ جس خدمت کی ذمہ داری کو قبول کرتا اس کو ٹھیک ٹھیک انجام دیتا تھا۔ کام کے معاملہ میں وہ نہ عقیدہ کور کا وٹ بناتا اور نہ کسی ذاتی مفاد کو۔
پروفیشنل دیانت داری کی یہ صفت آدمی کو سب کی نظر میں قابل اعتماد بنا دیتی ہے، حتی کہ اس کے مخالفین بھی اس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس کا قول لوگوں کی نظر میں چٹان کی طرح مضبوط بن جاتا ہے، وہ اپنے اور غیر سب کی نظر میں عزت کا مقام حاصل کر لیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues