قابل اعتماد کردار
الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۳۱
علم کی اہمیت
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں اپنے دعوتی کام کا آغاز کیا۔ آپ کی دعوت مکمل طور پر ایک پرامن دعوت تھی مگر مکہ والوں نے آپ کے خلاف یک طرفہ طور پر تشدد شروع کر دیا۔ اس کے بعد آپ اپنے ساتھیوں کو لے کر مکہ سے مدینہ چلے گئے۔ اب مدینہ آپ کی دعوت کا مرکز بن گیا۔ تاہم مکہ کے سردار اس پر راضی نہیں ہوئے۔ انھوں نے آپ کے خلاف مسلح جارحیت کی جس کے نتیجہ میں ۲ھ میں وہ لڑائی پیش آئی جو غزوہ بدر کے نام سے مشہور ہے۔
اس جنگ میں خدا نے پیغمبر اور ان کے ساتھیوں کی مدد فرمائی اور وہ اپنے مخالفین پر کامیاب ہوئے ۔ اس جنگ کے واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ اس میں مکہ کے ستر آدمی گرفتار ہو کر مدینہ لائے گئے ۔ یہ لوگ قدیم معیار کے مطابق پڑھے لکھے تھے ۔ جب کہ مدینہ میں پڑھائی کا رواج نہ تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کو ان قیدیوں کا فدیہ قرار دے دیا۔ آپ نے اعلان فرمایا کہ ان میں سے جو آدمی مدینہ کے دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے گا تو اس کو ہم قید سے رہائی دے دیں گے چنانچہ کئی قیدیوں نے اس طرح تعلیمی خدمت انجام دے کر رہائی حاصل کی (سیرت ابن کثیر ۲ صفحه ۵۱۲) یہ اسلام کی تاریخ میں پہلا مدرسہ تھا۔ یہ پہلا موقع تھا جب کہ مسلم نوجوانوں کو لکھنا پڑھنا سکھانے کا ایک نظام قائم کیا گیا تھا۔ اس مدرسہ کے تمام کے تمام ٹیچر غیر مسلم تھے بلکہ وہ دشمن قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں تعلیم کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ اس واقعہ کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ ہر حال میں تعلیم حاصل کرو، خواہ تم کو اغیار سے تعلیم حاصل کرنا پڑے، خواہ تم کو ایک ایسے ادارہ میں پڑھنا پڑے جس کے تمام ٹیچر تمہاری دشمن قوم سے تعلق رکھتے ہوں۔ انسان پیدائشی طور پر ہر صلاحیت لے کر آتا ہے مگر ان صلاحیتوں کو صحیح طور پر عمل میں لانے کے لیے علم کی ضرورت ہوتی ہے۔ علم آدمی کو باشعور بناتا ہے۔ علم آدمی کو اپنی صلاحیتوں کا صحیح استعمال سکھاتا ہے۔ علم آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش کی دنیا سے واقفیت حاصل کرے۔ علم کی وجہ سے یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی کتابوں کی صورت میں پچھلے انسانوں کے تجربات پڑھے۔ وہ تاریخ کی کامیابیوں اور ناکامیوں سے واقف ہو۔ علم کے بغیر آدمی محدود ہے۔ علم حکمت و معرفت کا خزانہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues