نفع بخشی
الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۳۶
نفع بخشی
قرآن کی سورہ نمبر ۱۳ میں ارشاد ہوا ہے کہ: خدا نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر نالے اپنی مقدار کے موافق بہ نکلے۔ پھر سیلاب نے ابھرتے جھاگ کو اٹھا لیا۔ اور اسی طرح کا جھاگ ان چیزوں میں بھی ابھر آتا ہے، جن کو لوگ زیور یا اسباب بنانے کے لیے آگ میں پگھلاتے ہیں۔ اس طرح خدا حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے۔ پس جھاگ تو سوکھ کر جاتا رہتا ہے ۔ اور جو چیز انسانوں کو نفع پہنچانے والی ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے ، اسی طرح خدا مثالیں بیان کرتا ہے (الرعد ۱۴)
دنیا کے پیدا کرنے والے نے اس کا نظام نفع بخشی کے اصول پر قائم کیا ہے۔ یعنی جو چیز دوسروں کے لیے مفید ہو وہ یہاں باقی رہے اور جو چیز اس اعتبار سے اپنی افادیت کھو دے وہ اسی طرح پھینک دی جائے جس طرح کوڑے کو بے کار سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے۔
نفع بخشی کا آغاز آدمی کے اپنے دماغ سے ہوتا ہے۔ یعنی آدمی دوسروں کا خیر خواہ ہو، وہ اپنے فائدے کے لیے سوچتے ہوئے یہ بھی اپنے دھیان میں رکھے کہ وہ دوسروں کے لیے کن صورتوں میں فائدہ پہنچانے والا بن سکتا ہے ، دوسروں کے بارہ میں اس کے اندر ہمدردی کا جذبہ ہو نہ کہ بے تعلقی کا جذبہ۔ ہر آدمی سماج کے اندر زندگی گزارتا ہے۔ ہر آدمی کی سرگرمیاں سماج کے اندر جاری ہوتی ہیں۔ جس آدمی کا طریقہ یہ ہو کہ وہ اپنا فائدہ چاہے اور صرف اپنے ذاتی تقاضوں کو پورا کرنے میں مشغول رہے ، وہ گویا فطرت کے نقشہ کے خلاف کام کر رہا ہے اور جو آدمی فطرت کے نقشہ کے خلاف کام کرے وہ خدا کی اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔
صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کی تعمیر اس طرح کرے کہ اس میں دوسروں کا بھی حصہ ہو۔ فطرت کے نظام کو استعمال کر کے جب وہ کوئی فائدہ حاصل کرے تو اس نے دوسروں کو بھی اس میں ضرور شریک کیا ہو۔ اس کا اصول یہ ہو کہ اس کو لینے کے ساتھ دینا بھی ہے ، دوسروں سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ دوسروں کو فائدہ پہنچانا بھی۔
کائنات میں بقا صرف باہمی افادیت کو حاصل ہے۔ خود غرضانہ رویہ کے لیے اس کائنات میں کوئی جگہ نہیں۔ خدا کی اس دنیا میں یہی اصول انسان کے لیے بھی ہے اور بقیہ کائنات کے لیے بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues