ذہنی ارتقاء
الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۳۵
ذہنی ارتقاء
الترمذی نے حضرت سعید الخدری کی ایک روایت نقل کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن خیر کی بات سننے سے کبھی سیر یں ہوتا ۔ یہاں تک کہ وہ جنت کی منزل تک نہ پہنچ جائے ( لن يشبع المؤمن من خير يسمعه ، حتى يكون منتهاه الجنة ) جامع الاصول في احاديث الرسول ۸ صفحہ ۹ آدمی کو چاہیے کہ سیکھنے کا جذبہ اس کے اندر مسلسل بیدار رہے ۔ وہ ہمیشہ نئی بات سیکھنے کا خواہشمند ہو ۔ وہ اپنے تجربہ اور واقفیت میں ہر روز اضافہ کرتا رہے ۔ یہاں تک کہ اسی حال میں اس پر موت آجائے ۔ معلومات کی دنیا لامتناہی حد تک وسیع ہے۔ وہ کبھی ختم نہیں ہوتی ۔ اس لیے ایک سچا انسان کبھی نئی نئی باتیں سیکھنے سے سیر نہیں ہوتا ۔ وہ اپنے دماغ کے خزانہ میں ہر صبح و شام اضافہ کرتا رہتا ہے۔ یہی اضافہ انسانی ترقی کا راز ہے ۔ اس طرح آدمی کا ذہنی ارتقاء مسلسل جاری رہتا ہے۔ وہ سوچنے اور عمل کرنے کے نئے راستے دریافت کرتا رہتا ہے ۔ اس کے سامنے کوئی حقیقت آتی ہے تو وہ فوراً اس کو اس کی گہرائی تک سمجھ لیتا ہے ۔ لوگوں کے ساتھ اس کا معاملہ پڑتا ہے تو وہ جان لیتا ہے کہ کامیاب معاملہ کا طریقہ کیا ہے ۔ اس کے سامنے ایک راستہ بند ہوتا ہے تو وہ اپنے سفر کو جاری رکھنے کے لیے فوراً ہی دوسرا راستہ پالینا ہے ۔
ایسے آدمی کی بڑھی ہوئی ذہنی استعداد اس بات کی ضمانت بن جاتی ہے کہ وہ حق کو حق کے روپ میں دیکھے اور باطل کو باطل کے روپ میں پہچان لے۔ وہ چیزوں کو ویسی ہی دیکھتا ہے جیسی کہ وہ ہیں ، نہ کہ دکھانے والے جس روپ میں اس کو دکھا دیں۔ ایسا آدمی اس پوزیشن میں ہو جاتا ہے کہ وہ شبہات کا پردہ پھاڑ کر سچائی کو دیکھے۔ وہ مغالطہ اور استدلال کے درمیان فرق کر سکے۔ وہ جان لے کہ جذباتی نقطۂ نظر کیا ہے اور عقلی نقطۂ نظر کیا ۔ ایسے آدمی کے اندر وہ چیز پر ورش پاتی ہے جس کو تخلیقی ذہن کہا جاتا ہے۔ وہ چیزوں کو ازسرِنودریافت کرتاہے ، وہ تقلید سے اوپر اٹھ کر مجتہدانہ رائے بنانے کے قابل ہو جاتا ہے۔ وہ ظواہر کا پردہ پھاڑ کر حقیقت کو دیکھنے لگتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو بھی زیادہ بہتر طور پر جان لیتا ہے ، اور دوسروں کے بارہ میں بھی اس کے اندر زیادہ صحیح پہچان پیدا ہو جاتی ہے۔ عام انسان اگر صرف انسان ہوتا ہے تو ایسا آدمی پورے معنی میں ایک ترقی یافتہ انسان ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues