Al-Risala · June 1998 · page 38

انس و محبت

الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۳۸

انس و محبت

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ــــ مومن انس و محبت والا انسان ہوتا ہے۔ اس آدمی میں کوئی خیر نہیں جو نہ دوسروں سے مانوس ہو اور نہ دوسرے اس سے مانوس ہوں ۔ لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ لوگوں کو نفع پہنچانے والا ہو۔ (المومن آلف مألوف، ولا خیر فیمن لا یالف ولا یولف وخیر الناس انفعھم للناس) ادب الدنیا والدین للبری، صفحہ ۲۳۷ انسان جب اپنی صحیح فطرت پر قائم ہو تو وہ ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ اس حدیثِ رسول میں بتایا گیا ہے۔ اس کے اندر ایسی صفات ہوتی ہیں جو لوگوں کو اس کی طرف مائل کر دیں ۔ اسی طرح وہ خود دوسرے انسانوں سے الفت و محبت کے ساتھ پیش آنے والا انسان ہوتا ہے ۔ یہی وہ انسان ہیں جن کے ملنے سے ایک بہتر سماج وجود میں آتا ہے ۔ وہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے والے ہوتے ہیں اور دوسروں سے بھی ان کو فائدہ کا تجربہ ہوتا ہے ۔

جو لوگ دنیا میں اس طرح جئیں وہ خود بھی کامیاب ہوتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی کامیابی کا ذریعہ بنتے ہیں ۔ وہ پھول کی مانند ہوتے ہیں جو اپنے آپ میں بھی خیر ہوتا ہے اور پورے باغ کے لیے بھی خیر ۔

ایسا انسان کینہ و نفرت جیسے جذبات سے خالی ہوتا ہے ۔ اس کے دل میں دوسروں کے لیے خیر خواہی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا ۔ وہ ہر ایک کو اپنا سمجھتا ہے ۔ ہر ایک کے لیے اس کے دل میں بہترین تمنائیں ہوتی ہیں ۔ جب بھی کوئی شخص اس سے ملتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ پھول سے مل رہا ہے نہ کہ کسی کانٹے سے ۔ اس کے پاس بیٹھنا الفت و محبت کے ماحول میں بیٹھنا ہوتا ہے نہ کہ نفرت و وحشت کے ماحول میں بیٹھنا ۔

ایسا آدمی جب دوسروں سے ملتا ہے تو وہ اس سے مسکرا کر ملتا ہے ۔ وہ ہمیشہ دوسروں کی رعایت کرتا ہے ۔ دوسروں کی خدمت کرنا اس کے لیے خوشی کا ایک تجربہ ہوتا ہے ۔ دوسروں کے کام آنا اس کے لیے خود اپنی شخصیت کی تکمیل کے ہم معنی ہوتا ہے ۔ دوسروں کے ساتھ اس کی خیر خواہی کا جذبہ اس وقت بھی ختم نہیں ہوتا جبکہ دوسروں کی طرف سے اس کو کوئی ناخوش گوار تجربہ پیش آئے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues

Printed page