Al-Risala · June 1998 · page 39

ضرورت نہ کہ حرص

الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۳۹

ضرورت نہ کہ حرص

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو آدمی بقَدَر ضرورت پر قناعت نہ کرے تو وہ ساری زندگی غیر مطمئن حالت میں رہے گا (من لا يجزيه من العيش ما يكفيه، لم يجد ما ‌عَاشَ ما يغنيه) ادب الدنیا والدين للبصری، صفحہ ۲۹۹ مطمئن زندگی کا تعلق زیادہ سے نہیں ہے بلکہ قناعت سے ہے۔ جو آدمی ضرورت کے بقَدَر پا کر مطمئن ہو جائے، وہی اس نعمت کو پا سکتا ہے جس کو اطمینان کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو آدمی ضرورت کے بجائے خواہش کو اپنا معیار بنائے وہ کبھی اطمینان کی زندگی نہیں پا سکتا۔ کیوں کہ ضرورت کی ایک حد ہے، مگر خواہش اور حرص کی کوئی حد نہیں۔

آدمی کو چاہیے کہ وہ ضرورت اور حرص میں فرق کرے۔ وہ اپنی جَدّ و جُہد کا نشانہ ضرورت کی تکمیل کو بنائے نہ کہ خواہش کی تکمیل کو۔ جب ضرورت کو نشانہ بنایا جائے تو ہر چیز اپنی فطری جگہ پر رہتی ہے۔ آدمی ضرورت کی فراہمی کے بعد اس کا وقت پا لیتا ہے کہ وہ زندگی کے اعلی مقاصد میں بھی اپنے آپ کو مصروف کر سکے۔ اس کے برعکس جب ضرورت کے بجائے حرص کو نشانہ بنا لیا جائے تو آدمی صرف کمانے والا حیوان بن جاتا ہے۔ اس کے پاس کوئی ایسا وقت نہیں بچتا جس میں وہ اعلی انسانی تقاضوں کی تکمیل میں اپنا حصہ ادا کر سکے۔

ضرورت کو نشانہ بنانے کی صورت میں زندگی کا نظام اپنے فطری دائرہ میں ہوتا ہے۔ اس کے بجائے جب ضرورت کی حد سامنے نہ رکھی جائے بلکہ اپنی خواہش کو اپنا رہنما بنا لیا جائے تو زندگی کا فطری نقشہ بگڑ جاتا ہے۔ اور اس دنیا میں پُر عافیت زندگی وہی ہے جو فطرت کے نقشہ پر گزاری جائے ۔ حرص کا معاملہ ہمیشہ مادی چیزوں میں پیش آتا ہے، نہ کہ اعلی اقدار میں۔ ایسی حالت میں جو آدمی اپنی حرص کے پیچھے دوڑے اس نے گویا اپنی آدمیت کو گھٹالیا۔ کیوں کہ مادی ضروریات آدمی کی زندگی کا جُز، ہیں نہ کہ کل۔

صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اعلی انسانی مقاصد کو اپنی زندگی میں پہلی اہمیت کا درجہ دے اور مادی چیزوں کی فراہمی کو دوسرے درجہ میں رکھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues

Printed page