دانش مندی
الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۴۶
دانش مندی
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ــــ دانش مند سے رہ نمائی حاصل کرو تم راہ یاب ہوگے اور اس کے خلاف نہ کرو ورنہ تم پشیمان ہوگے اسْتَرْشِدُوا الْعَاقِلَ ترشدوا ولا تعصوه فتندموا) ادب الدنيا والدين للبصری، صفحه ۴۷۵ انسان سب یکساں نہیں ہوئے۔ کسی کے پاس علم کم ہوتا ہے اور کسی کے پاس علم زیادہ، کوئی زیادہ تجربہ کار ہوتا ہے اور کوئی کم تجربہ کار۔ اسی طرح کوئی شخص فطری طور پر زیادہ سوجھ بوجھ والا ہوتا ہے اور کوئی کم سوجھ بوجھ والا۔ یہ فرق اس لیے ہے تاکہ لوگ ایک دوسرے سے فائدہ اٹھائیں۔ ایک آدمی اگر اپنے اندر کمی پائے تو وہ دوسرے کے ذریعہ اپنی اس کمی کو پورا کرے ۔
یہ فطرت کا نظام ہے اور جو چیز خود فطرت کے نظام سے تعلق رکھتی ہو، اس سے موافقت کرکے ہی آدمی کامیاب ہوتا ہے۔ فطرت کے نظام کی خلاف ورزی کرنے کا انجام تباہی کے سوا اور کچھ بھی نہیں ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو جانے اور اسی کے ساتھ وہ دوسرے سے بھی واقفیت رکھتا ہو۔ جو آدمی اس طرح بے لاگ طور پر اپنے آپ کو اور دوسرے کو جانے گا اس کا مزاج یہی ہوگا کہ ہر موقع پر وہ ان لوگوں سے رہنمائی حاصل کرے گا جو اس سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں یا علم اور تجربہ میں اس سے بڑھے ہوتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں سے اس کو جو رہ نمائی ملے گی اس کو وہ کھلے دل سے قبول کرلے گا۔ کیونکہ وہ جانے گا کہ ایسے موقع پر کوئی اور عمل کرنا اس کو تباہی کے سوا کہیں اور پہنچانے والا نہیں ۔ کوئی آدمی جب دانش مندی کی بات کو نہیں مانتا تو وہ کیوں ایسا کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایسے معاملہ کو اپنے لیے ساکھ کا مسئلہ بنا لیتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے دوسرے کی بات مان لی تو میں اس کے مقابلہ میں نیچا ہو جاؤں گا۔ مگر اس طرح کی سوچ سراسر نادانی کی سوچ ہے، اس طرح کے معاملہ کو ساکھ یا عزت نفس کا مسئلہ بنانا اپنی کامیابی اور ترقی کے دروازہ کو خود اپنے ہاتھوں سے بند کر لینا ہے۔ دانش مند کی بات کو نہ ماننا بظاہر دوسرے کی بات کو نہ ماننا ہے مگر حقیقت کے اعتبار سے یہ خود اپنا انکار ہے۔ آدمی جب کسی دوسرے کی ایک سچی بات کو نہیں مانتا تو وہ گویا خود اپنی فطرت اور اپنے ضمیر کو رد کر رہا ہے، یہ بلاشبہ سب سے بڑا نقصان ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues