انجام کا لحاظ
الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۴۷
انجام کا لحاظ
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ــــ جب تم کسی کام کا قصد کرو تو پہلے اس کے انجام کے بارہ میں سوچو، اگر وہ درست ہو تو اس کو کرو اور اگر وہ درست نہ ہو تو اس سے رک جاؤ ( اذا هممت بامر ففکر فی عاقبته ، فان کان رشداً فامضه وان كان غياً فَانْتَهِ عنه) ادب الدنیا والدین ، صفحه ۵۶۲ کائنات میں صرف خدا کی ہستی ایک ایسی ہستی ہے جس کو یہ طاقت حاصل ہے کہ وہ کوئی فعل کرے تو اسے اس کے برے انجام کا کوئی خوف نہ ہو (ولایخاف عقبٰھا)جہاں ) جہاں تک انسان کا تعلق ہے وہ ایک محدود اور بے زور مخلوق ہے ۔ اس کے لیے ایسی کارروائی ممکن نہیں جس میں اس کے انجام پر غور نہ کیا گیا ہو، اور اگر کوئی شخص ایسی کارروائی کرے تو اس کا برا نتیجہ سب سے زیادہ اسی کو بھگتنا پڑے گا۔ انسان ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں اس کے جیسے دوسرے بہت سے انسان ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے اغراض کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ اسی کے ساتھ مختلف قسم کی مادی طاقتیں ہیں جو خود اپنے قانون کے تحت عمل کر رہی ہیں۔ اس طرح گویا انسان ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں اس کو مخالفین سے بھرے ہوئے ماحول میں اپنے مقصد کے لیے عمل کرنا ہے۔
ایسی حالت میں انسان کو کیا کرنا چاہیے۔ اس کا جواب صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ آدمی کوئی عمل شروع کرنے سے پہلے اس کے ہر پہلو پر غور کرے، وہ ایک طرف اپنی طاقت کا اندازہ کرے اور دوسری طرف بے لاگ طور پر یہ دیکھے کہ خارجی دنیا میں کتنے اسباب اس کے موافق ہیں اور کتنے اسباب اس کے مخالف ۔ آدمی کو چاہیے کہ اس طرح کے گہرے جائزہ کے بعد وہ اپنے عمل کا منصوبہ بنائے۔ اگر آپ ایسا کریں کہ حالات کے گہرے جائزہ کے بغیر اپنی کارروائی شروع کر دیں تو عین ممکن ہے کہ آپ کا عمل الٹا نتیجہ پیدا کرے۔ نہ صرف یہ کہ آپ کو متوقع فائدہ حاصل نہ ہو بلکہ اقدام سے پہلے آپ کو جو کچھ حاصل تھا وہ بھی غلط اقدام کے نتیجہ میں تباہ ہو جائے ۔ اس طرح کا انجام بھگتنے کے بعد اگر آپ اس کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرائیں تو یہ ایک غلطی پر دوسری غلطی کا اضافہ ہوگا۔ اس لیے کہ آپ کو جو نقصان ہوا وہ خود آپ کی غلطی کی قیمت تھی جو حالات نے بے رحمانہ طور پر آپ سے وصول کی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues