عقل مند کون
الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۴۸
عقل مند کون
اسلام کے دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمر فاروق نے کہا کہ عقل مند وہ نہیں ہے جو خیر اور شر کو جانے بلکہ عقل مند وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر میں سے خیر کون سا ہے ( لیس العاقل الذی يعرف الخير من الشر ولكنه الذی يعرف خير الشرین) العبقريات الاسلامیہ للعقاد ، صفحہ ۵۰۵ زندگی کا معاملہ بے حد نازک معاملہ ہے۔ یہاں ہر انسان کو آزادی ہے۔ ہر انسان اپنی اپنی دوڑ لگا رہا ہے۔ ہر انسان اپنے مقصد کے حصول میں مصروف ہے۔ اس لیے یہاں کسی کو بھی اپنے عمل کے لیے کھلا میدان نہیں ملتا۔ ہر ایک کو بھری ہوئی سڑک پر اپنا راستہ ملے کرنا ہوتا ہے۔ اس صورت حال نے اس کو نا ممکن بنا دیا ہے کہ آدمی اپنی خواہش کے مطابق اپنے لیے کامل معنوں میں ایک معیاری دنیا کو پالے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کسی آدمی کے لیے جو انتخاب ہے وہ خیر اور شر کے درمیان نہیں ہے بلکہ اس میں ہے کہ دو شر میں سے کمتر شر کون سا ہے۔ اس دنیا میں کمتر شر پر راضی ہونا دانش مندی ہے اور کمتر شر پر راضی نہ ہو کر خیر کامل کے لیے دوڑنا بے دانشی ، کیوں کہ ایسا خیر اس دنیا میں کسی کو ملنے والا ہی نہیں۔ کمتر شر پر راضی ہونے والا اپنے لیے عمل کا آغاز پا لیتا ہے۔ اس کا تعمیری عمل فوراً ہی شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ کمتر شر پر راضی نہ ہوں وہ غیر ضروری طور پر اس سے لڑ جائیں گے ، صرف اس لیے کہ ایک کمتر شر کو ہٹا کر دوبارہ دوسرے کمتر شر کو اپنے اوپر مسلط کر لیں اور مزید اس نقصان کو بھگتیں کہ تعمیر و ترقی کے لیے عمل کرنے کے جو مواقع انھیں حاصل تھے وہ استعمال ہوئے بغیررہ گئے۔
جو آدمی حقیقت کا گہرا شعور رکھتا ہو وہ یہی کرے گا کہ کمتر شر پر راضی ہو کر اپنی قوتوں کو مثبت تعمیر کے میدان میں لگا دے گا۔ اس کے برعکس جو لوگ گہری سوجھ بوجھ نہ رکھتے ہوں وہ خیر کامل کے حصول کے نام پر بے معنی لڑائی چھیڑدیں گے اور جب اس کا یہ انجام سامنے آئے گا کہ ملے ہوئے مواقع بھی ان کے ہاتھ سے نکل گئے تو وہ اپنے مفروضہ دشمنوں کی مذمت کرنے لگیں گے۔ حالانکہ جو نقصان انھیں پیش آیا ہوگا وہ خود ان کی نادانی کا نتیجہ ہوگا نہ کہ کسی دوسرے کی ظلم و زیادتی کا نتیجہ۔
طے ہوئے پر راضی ہونا آدمی کے لیے ترقی کا دروازہ کھولتا ہے۔ جو لوگ اس حقیقت کو جان لیں وہی اس قابل ہیں کہ انھیں دانش مند کہا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues