النبأ العظیم
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۴
النبأ العظیم
قرآن کی سورہ نمبر ۷۸ اس طرح شروع ہوتی ہے: لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں، اس بڑی خبر کے بارے میں، جس میں لوگ مختلف ہیں۔ ہرگز نہیں، عنقریب وہ جان لیں گے۔ ہرگز نہیں، عنقریب وہ جان لیں گے (النباء: ۱-۵)
اس آیت میں النبا العظیم یا بڑی خبر (great news) سے مراد قیامت کی خبر ہے۔ یعنی وہ وقت جب کہ صور پھونک دیا جائے گا اور قیامت کا عظیم دن لوگوں کے اوپر پھٹ پڑے گا۔ آج لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔ ہر آدمی مختلف انداز میں اپنی اپنی بولی بول رہا ہے۔ لیکن جب قیامت کی بڑی خبر واقعہ بنے گی تو ہر قسم کا اختلاف ختم ہو جائے گا۔ تمام لوگ ایک ہی بات سوچیں گے، تمام لوگ ایک ہی بات بول رہے ہوں گے۔ ایک بڑی خبر تمام چھوٹی خبروں کا خاتمہ کر دیتی ہے۔
اس معاملہ کا ایک چھوٹا سا نمونہ مئی ۱۹۹۸ میں سامنے آیا۔ ۱۱ مئی اور ۱۳ مئی ۱۹۹۸ کو انڈیا کی حکومت نے راجستھان میں پانچ زیر زمین ایٹمی دھماکے کئے۔ یہ دھماکے ہیروشیمااورناگاساکی (۱۹۴۵) میں گرائے جانے والے ایٹم بموں سے بہت زیادہ طاقتور تھے۔ یہ واقعہ پیش آتے ہی سارے ملک کے لئے سب سے بڑی خبر بن گیا۔ عالمی میڈیا جس میں اس سے پہلے انڈیا کا ذکر بہت کم ہوتا تھا اس میں اب انڈیا ہی سب سے بڑی خبر کے طور پر چھا گیا۔ چند دن کے لئے ایسا محسوس ہوا جیسے ایک بڑی خبر نے تمام چھوٹی خبروں کو نگل لیا ہو۔ یہ واقعہ گویا قیامت کی ایک اطلاع ہے۔ آج ہر آدمی اپنی اپنی بولی بول رہا ہے۔ ہر زبان پر الگ الگ باتوں کا چرچا ہے۔ کوئی آدمی نہ چپ ہونے کے لئے تیار ہے اور نہ دوسرے کی بات ماننے کے لئے آمادہ۔ لیکن جب قیامت کی بڑی خبر کا اعلان ہو گا تو اچانک ساری صورت حال بدل جائے گی۔ لوگ دوسری تمام باتوں کو بھول کر ایک ہی بڑی بات کے بارے میں سوچیں گے ، وہ یہ کہ قیامت کی ہولناکی سے کس طرح اپنے آپ کو بچائیں۔ ایک بڑی خبر تمام چھوٹی خبروں پر چھا جاتی ہے، ایک بڑی خبر تمام چھوٹی خبروں کو مٹا دیتی ہے۔ یہ بات دنیا کے بارے میں بھی درست ہے اور آخرت کے بارے میں بھی مزید اضافہ کے ساتھ درست۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues