Al-Risala · July 1998 · page 5

قیادت کا معیار

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۵

قیادت کا معیار

قرآن (المائدہ ۳) میں بتایا گیا ہے کہ اے ایمان والو، تم لوگ انسانوں سے نہ ڈرو بلکہ اللہ سے ڈرو (فلا تخشوہم واخشون) قرآن کی یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ اس دنیا میں مسلمانوں کے لئے اصل مسئلہ خشیت انسانی کا نہیں ہے بلکہ خشیت خداوندی کا ہے۔ بظاہر اگر انسانوں کی طرف سے کوئی خطرہ آتا ہوا دکھائی دے تب بھی انہیں خداہی کی طرف دوڑنا چاہئے۔ کیونکہ تمام معاملات کا سر اخذ ہی کے ہاتھ میں ہے اور وہی ان کا فیصلہ کسی کے حق میں یا کسی کے خلاف کرنے والا ہے۔

قرآن کے اس بیان سے قیادت کا معیار معلوم ہوتا ہے۔ یہی وہ معیار ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ کون سی قیادت اسلامی قیادت ہے اور کون سی قیادت جاہلی قیادت۔ جو قائد لوگوں کو اللہ سے ڈرائے، جو ففروا الى الله انى لكم منه نذير مبين (الذاريات ۵۰) کی زبان میں کلام کرے، وہ اسلامی قائد ہے۔ یہی وہ قائد ہے جس کی سرگر میاں دین اور اہل دین کے لئے خیر کا باعث ہوتی ہیں۔

اس کے برعکس دوسرا قائد وہ ہے جو لوگوں کو انسانی خطروں سے ڈرائے۔ جس کی تحریروں اور تقریروں کا خلاصہ یہ ہو کہ وہ انسانی سازشوں کا انکشاف کر کے لوگوں کو ان کے خلاف لڑنے کے لئے ابھارتا ہو۔ اس قسم کی قیادت بلاشبہ جاہلی قیادت ہے۔ اس سے دین اور اہل دین کے لئے کوئی خیر بر آمد ہونے والا نہیں۔ ایسے جاہلی قائدین کے مقابلہ میں اہل اسلام کا رویہ وہ ہونا چاہئے جو قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے ۔۔۔۔۔ جن سے کہنے والوں نے کہا کہ لوگوں نے تمہارے خلاف اسباب اکٹھا کر لئے ہیں ان سے ڈرو۔ لیکن اس چیز نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کر دیا اور وہ بولے کہ اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے (آل عمران ۱۷۳)۔

جاہلی قائدین ایک فتنہ ہیں۔ اس لئے وہ کبھی دنیا سے ختم نہ ہوں گے۔ کامیاب وہ ہے جو ان کی جاہلی باتوں کے فریب میں نہ آئے اور خشیت الہیٰ کی بنیاد پر اپنے فکر و عمل کی تعمیر کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues

Printed page