وحدت انسانیت
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۷
درمیان کار آمد نہ ہو سکا ، وہ مختلف مذاہب کے درمیان کس طرح کار آمد بن جائے گا۔ " وحدتِ دین سماجی اتحاد پیدا کرتا ہے " ـــــ یہ نظریہ بظاہر یہ فرض کرتا ہے کہ ' وحدتِ دین ' کے اصول کو ابھی تک عمل میں نہیں لایا گیا ہے ، اب اس کا عملی تجربہ کرنا ہے۔ حالانکہ یہ بات خلافِ واقعہ ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ نہایت اعلیٰ سطح پر اس نظریہ کا تجربہ کیا گیا مگر وہ سراسر نا کام ثابت ہوا۔ شہنشاہ اکبر کی حکومتی طاقت ، ڈاکٹر بھگوان داس کا انسائیکلو پیڈیائی علم اور مہاتما گاندھی کی مقبول لیڈرشپ ، اس قسم کے بہت سے نام ہیں جو اس ناکام تجربہ میں نمایاں طور پر شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آج ہمارے سامنے جو اصل مسئلہ ہے وہ وحدت دین کے نظریہ کے تجربہ کا نہیں ہے بلکہ اس کے لمبے تجربہ کے باوجود مطلوب نتیجہ نہ نکلنے کا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جو چیز مفقود ہے وہ نظریہ کی موجودگی نہیں ہے بلکہ نظریہ کے موجود ہوتے ہوئے نتیجہ کا حاصل نہ ہونا ہے۔ ایسی حالت میں ہمیں اس نظریہ کے سوا ایک اور حل تلاش کرنا ہے نہ کہ اسی ناکام تجربہ کو مزید دہرانا۔ اس معاملہ میں زیادہ صحیح اور قابل عمل نقطہ نظر وہ ہے جو قرآن میں بتایاگیاہے۔ اس اس معاملہ میں قرآن نے جو تصور دیا ہے وہ یہ ہے کہ تمام انسان نفس واحدہ سے پیدا کیے گئے ہیں ( النساء - ١) یعنی تمام انسانوں کی اصل ایک ہے۔ تمام انسان ایک ہی جوڑے کی اولاد ہیں۔ اس لحاظ سے تمام انسان آپس میں بہن بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سب کے سب آپس میں بلڈ سسٹرز اور بلڈ بردرز ہیں۔ اس تصور کے مطابق ، سماج میں اتحاد و احترام کا ماحول پیدا کرنے کی بنیاد وحدتِ انسانیت ہے۔ یعنی یہ کہ تمام لوگ اس حقیقت کو مانیں کہ ظاہری اختلاف کے باوجود سب کے سب اصل ایک انسانی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسرے اعتبارات سے بظاہر مختلف ہونے کے باوجود وہ انسانی اعتبار سے ایک ہیں۔
سماج میں اتحاد و احترام کی فضا پیدا کرنے کے لیے یہی واحد فارمولا ہے جو قابل عمل ہے اور اسی کے ساتھ فطرت کے مطابق بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues