Al-Risala · July 1998 · page 6

وحدت انسانیت

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۶

وحدت انسانیت

۵ اپریل ۱۹۹۸ء کو میں رشی کیش میں تھا۔ اس وقت یہاں ایک پروگرام کے تحت مختلف ملکوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندوآئے ہوئے تھے۔ اس موقع پر ایک مجلس میں چند تعلیم یافتہ ہندوؤں سے ایک مفید گفتگو ہوئی ۔ اس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔

گفتگو کا موضوع یہ تھا کہ انسانی سماج میں باہمی رواداری (ٹالرنس) (ٹالرنس)اوراحترام (رسپکٹ)کاماحول کس طرح پیدا کیا جاۓ ۔ انھوں نے اس کا حل یہ بتایا کہ لوگوں کے اندر وحدت حقیقت (oneness of reality) reality)کاعقیدہ بٹھایاجائے۔ان ۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ سچائی ایک ہے مگر اس کے راستے مختلف ہیں۔ آدمی جس مذہبی طریقہ پر بھی چلے، آخر کار وہ خدا تک پہنچ جائے گا۔

یہ ایک قدیم نظریہ ہے۔ اس کے ثبوت کے لیے جو دلیلیں دی جاتی ہیں سب کی سب تمثیل پر مبنی ہیں۔ مثلاً مذکورہ مجلس میں ایک ہندو اسکالر نے کہا کہ اگر آپ ایک پہاڑی کے نیچے کھڑے ہوں تو وہاں آپ کو ایک ہی راستہ دکھائی دے گا جو پہاڑی کے اوپر جارہا ہو گا۔ لیکن اگر آپ پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ جائیں اور اس کے چاروں طرف دیکھیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ پہاڑ کے ہر طرف راستے ہیں اور وہ سب الگ الگ ہونے کے باوجود ایک ہی بلندی پر پہنچ رہے ہیں۔

اس قسم کی تمثیل علمی اعتبار سے کوئی وزن نہیں رکھتی اس کو نہایت آسانی کے ساتھ دوسری تمثیل سے رد کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً بمبئی یا دہلی جیسے ریلوے اسٹیشن پر کوئی شخص کھڑا ہو تو اس کو سیکڑوں گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں گی مگر یہ سمجھنا یقینی طور پر درست نہ ہو گا کہ ان میں سے ہر گاڑی ایک ہی آخری اسٹیشن کی طرف جارہی ہے ۔ مذکورہ تمثیل میں تمام راستے اگر ایک ہی منزل کی طرف جارہے ہیں تو اس قسم کی دوسری تمثیل میں ہر راستہ الگ الگ منزل کی طرف چلا جارہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ انسانی سماج میں احترام اور رواداری کا ماحول پیدا کرنے کے مسئلہ سے مذکورہ نظریہ کا کوئی تعلق نہیں حتیٰ کہ اگر تمام لوگ اس عقیدہ کو مان لیں تب بھی وہ مطلوب سماجی مقصد کے لیے مفید نہیں ہو سکتا ۔ اس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ ایک مذہب کو ماننے والے گروہ کے درمیان باہمی طور پر ہر زمانہ میں لڑائیاں جاری رہی ہیں اور آج بھی جاری ہیں۔ پھر جو نظریہ اتحاد ایک مذہب کے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues

Printed page