ہی کرڈالوں تو آپ کے کرنے کے لیے کیا رہے گا
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۳۴
اذان اور نماز کے درمیان لاؤڈ اسپیکر پر دوبارہ الفاظ سنائی دیے: الصلوۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ، الصلوۃ والسلام علیک یا نبی اللہ، الصلوۃ والسلام علیک یا حجۃ اللہ۔ میں نے سوچا کہ نماز میں چادر اوڑھنا تو کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔ مگر اذان اور نماز کے درمیان مسجد میں مذکورہ کلمات ادا کرنا ضرور قابل اعتراض ہے، کیوں کہ وہ بدعت ہے۔ تاہم میں خاموش رہا۔ کیوں کہ میں جانتا تھا کہ یہاں دلیل بیان کرنے کا کوئی موقع نہیں۔ امام صاحب نے نماز میں سورۃ والنجم کی تلاوت کی۔ اس کو پڑھتے ہوئے وہ اس آیت تک پہنچے: افرأ يتم اللات والعزیٰ۔ ومناۃ الثالِثَةَ الاخریٰ ۔ مجھے یاد آیا کہ اس موقع پر عرب مشرکین نے ایک فتنہ بنایا تھا۔ انھوں نے اس کے بعد اپنی طرف سے یہ الفاظ ملا دیے: تلک الغرانیق العلیٰ۔ وإن شفاعتھم لترتجیٰ۔ (یہ بہت بڑی ہستیاں ہیں، ان کی شفاعت ضرور متوقع ہے) اور پھر مشہور کر دیا کہ یہ الفاظ خود محمدؐ نے اپنی زبان سے کہے ہیں۔ اس طرح انھوں نے داعی توحید کو حامی شرک کے روپ میں پیش کر دیا۔
عجیب بات ہے کہ ٹھیک یہی طریقہ موجودہ زمانہ کے کچھ مسلمانوں نے میرے خلاف اختیار کیا ہے۔ وہ میری بات میں اپنی بات ملا کر اس کو کچھ کا کچھ بنا دیتے ہیں اور اس طرح مجھے بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً ۶ دسمبر ۱۹۹۲ء کے بعد میں نے کہا تھا کہ : مسلمان بابری مسجد کے میں اپنے ایجی ٹیشن کو ختم کر دیں۔ اور ہندو اپنی مندر۔ مسجد تحریک کو اجودھیا ہی میں ہمیشہ مگر ملت کے ان خود ساختہ نمائندوں نے اس کو بدل کر یہ کہہ دیا کہ مسلمان بابری مسجد کو ہندوؤں کے حوالے کر دیں۔
ایک رات والی مسجد میں فجر کی نماز پڑھنے کے بعد ہم لوگ مقامی عید گاہ میں گئے جہاں ۱۴ اگست ۱۹۸۰ء کو فساد ہوا تھا۔ عید گاہ کے پختہ اور بلند حصہ کے باہر زیادہ بڑے رقبہ میں کچا میدان ہے جو سڑک سے ملا ہوا ہے۔ یہاں سڑک اور عید گاہ کے درمیان ایک چوڑا لمبا نالہ بہتا ہے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو تین خنزیر عید گاہ کے سامنے اس نالہ کے کنارے موجود تھے۔ اطراف میں بھی کئی خنزیر دکھائی دیے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues