ہی کرڈالوں تو آپ کے کرنے کے لیے کیا رہے گا
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۳۵
عید کے دن یہ ہوا کہ کچے میدان میں جہاں لوگ چادر بچھا کر نماز ادا کر رہے تھے، ایک خنزیر اندر آگیا۔ اس وقت سلام پھیرنے کے بعد لوگ اپنی چادروں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ خنزیر چلتے ہوئے ایک مسلمان کی چادر سے گزرا جس سے چادر گندی ہوگئی۔ پاس ہی پولیس کے لوگ کھڑے ہوئے تھے۔ مسلمان نے غصہ ہو کر پولیس والے سے کہا: الو کے پٹھے، دیکھتے نہیں، تم یہاں کس لیے کھڑے ہو۔ اس کو روکا کیوں نہیں۔ اس کے بعد پولیس نے بھی بگڑ کر کہا کہ ہم اس لیے یہاں نہیں کھڑے ہیں۔ تکرار بڑھی تو پولیس والے نے اپنی بندوق کے کندے سے مسلمان کو مار دیا۔ اس کے بعد بات اور بڑھی۔ مسلمانوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا جس سے کئی پولیس کے آدمی زخمی ہو گئے۔ اب مزید غصہ بڑھا۔ اور پولیس نے براہِ راست فائرنگ شروع کر دی جو بڑی تعداد میں وہاں موجود تھی۔
اس کے بعد زبردست فساد ہوا۔ مسلمانوں کی اقتصادیات تباہ ہوگئی۔ اس بربادی کا اثر تقریباً پانچ سال تک رہا۔ اس کے بعد مسلمانوں نے دوبارہ اٹھنا شروع کیا۔ صاحب خانہ آج صبح کو کچھ اخبارات لے آئے۔ ان میں سے ایک ٹائمز آف انڈیا (۱۱ مارچ) تھا۔ اس کے صفحہ اول پر صدر کانگریس اور وزیر اعظم مسٹر نرسمہاراؤ کی ایک تقریر کی رپورٹنگ تھی۔ اگلے مہینہ (اپریل۱۹۹۶) میں ملک میں دسویں لوک سبھا کے لیے الیکشن ہونے والا ہے۔ اس کے پیش نظر انھوں نے کہا کہ مجھ کو استحکام دو، میں تم کو خوش حالی دوں گا : Give me stability, I will give you prosperity. میں نے کہا کہ یہ ایک برعکس بات ہے۔ آج اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کانگریس کو سیاسی استحکام دیا جائے تو وہ ملک کو معاشی خوش حالی دے گی۔ بلکہ اصل غور طلب بات یہ ہے کہ آزادی (۱۹۴۷) کے بعد لمبے عرصے تک کانگریس کو سیاسی استحکام ملا، اس کے باوجود وہ ملک کو معاشی خوش حالی نہ دے سکی۔
میں نے کہا کہ ساوتھ کوریا ایک بے حد چھوٹا ملک ہے۔ مگر حال یہ ہے کہ تیس سال پہلے اس کی فی کس آمدنی ساٹھ ڈالر تھی، آج کوریا کی فی کس آمدنی دس ہزار ڈالر ہے۔ آج اصل غور طلب سوال یہ ہے کہ کوریا اور انڈیا میں یہ فرق کیوں۔ حالانکہ کوریا میں آج بھی امریکہ کی فوجیں موجود ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues