حکمت حیات
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۱۱
باوجود کوئی حقیقی ترقی حاصل نہ کرسکے۔
میں نے تقریباً ساری دنیا کا سفر کیا ہے۔ میں نے اس معاملہ کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ میرے نزدیک اس کا سبب وہی کاگ وہیل کا قانون ہے جس کا اوپر ذکر ہوا۔
امریکہ کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اس کو اپنی جدید تاریخ کی ابتدا ہی سے ایسے لیڈر مل گئے جو نظریہ سازی کے فریب سے آزاد تھے۔ انہوں نے فطرت کے قوانین کو سمجھا اور اس کی مطابقت کرتے ہوئے اپنا قومی سفر طے کرنا شروع کیا۔
فطرت کا یہ اصول ایک لفظ میں صحت مند مقابلہ (healthy competition) ہے۔ انہوں نے ملک میں ہر ایک کو آزادی دے دی اور ہر ایک کے لئے یہ موقع کھول دیا کہ وہ مقابلہ ومسابقت کے میدان میں اپنی اہلیت کا ثبوت دے کر اپنی مطلوب ترقی حاصل کر سکے۔ انہوں نے حکومت کو لاء اینڈ آرڈر (نظم ونسق) کے دائرہ تک محدود رکھا اور تمام لوگوں کو عمل کی کھلی آزادی دے دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہرایک کے لئے اپنی بہترین صلاحیتوں کے استعمال کا بے روک ٹوک موقع مل گیا۔
ایک لفظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ کے رہنماؤں نے کسی خود ساختہ نظریہ کو اصل قرار دے کر اس کے تحت اپنے سماج کو ڈھالنے کی کوشش نہیں کی۔ بلکہ صرف یہ دیکھا کہ فطری طور پر کیا چیز قابل بقا (sustainable) ہے، اور جو چیز فطری طور پر قابل بقا تھی اس کو اختیار کر لیا۔ اس کے برعکس روس (سوویٹ یونین) میں یہ ہوا کہ کچھ نظریہ سازوں نے اپنے خود ساختہ تخیلات کو اصل قرار دے کر اس کے مطابق پورے سماج کو ڈھالنے کی کوشش کی اور جب سماج کی طرف سے مزاحمت ہوئی تو کروڑوں لوگوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح مار ڈالا۔ یہ اسکیم فطرت کے خلاف تھی، اس لئے پچتر سالہ پر شور کوشش کے باوجود وہ کامیاب نہ ہو سکی۔
یہی معاملہ ہندوستان اور پاکستان میں پیش آیا۔ یہاں بھی کچھ رہنماؤں نے اپنے خود ساختہ نظریات کو اصل قرار دے دیا اور یہ چاہنے لگے کہ پورے ملک کو اسی ذاتی نظریہ کے تحت ڈھال دیں۔ یہ زبردستی کا نفاذ نظام بھی مکمل طور پر ناکام رہا۔ اور پچاس سال کی قیمتی مدت نہایت بیدردی کے ساتھ ضائع ہو گئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues