حکمت حیات
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۱۲
ہند ستان اور پاکستان کے رہنماؤ ں کوبھی یہی کرنا تھا کہ وہ اس اصول کو اختیار کرتے جس کو فطرت پانی کے معاملہ میں اختیار کرتی ہے۔ پانی جب پہاڑ کی چوٹی سے بہنا شروع ہوتا ہے تو فطرت اس کو خود اپنے کورس پر بہنے کے لئے آزاد چھوڑ دیتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ قدرتی نشیب و فراز سے گزرتا ہوا سمندر تک پہنچ جاتا ہے۔
ہند ستان اور پاکستان کے رہنماؤ ں کوبھی یہی کرنا تھا۔ وہ حقیقی حالات کو سمجھتے اور سماج کو فطرت کی شاہراہ پر آزادانہ چلنے دیتے۔ اس طرح اپنے آپ صحت مند مسابقت کا ماحول بنتا اور ہر ایک کی صلاحیتیں ظاہر ہو کر ترقیاتی عمل میں اپنا حصہ ادا کرتیں۔ مگر نظریاتی جنون نے زبردستی کی منطق پیدا کی اور زبردستی کی منطق نے ہر چیز کو تباہ کر کے رکھ دیا۔
موجودہ دنیا میں کام کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ زندگی کو فطرت کی شاہراہ پر آزادانہ چلنے دیا جائے اور اگر کسی کے ذہن میں اپنا کوئی علیحدہ نقشہ ہے تو اس کو وہ ترغیب (persuasion) کے دائرہ میں محدود رکھتے ہوئے پر امن طور پر اس کی اشاعت کرے اور اس وقت کا انتظار کرے جب کہ لوگوں کی سوچ بدل جائے اور خود فطرت ہی کے قانون کے مطابق اس کا عملی قیام ممکن ہو جائے۔
سماجی نظام کی تشکیل کے سلسلہ میں اصل قابل لحاظ بات یہ نہیں ہے کہ کسی رہنما کے دماغ میں اس کا نظریاتی نقشہ کیا ہے۔ بلکہ اصل قابل لحاظ بات یہ ہے کہ عملی حالات کے لحاظ سے کیا چیز قابل حصول ہے۔ سماجی نظام کی تشکیل میں رہنما کا حصہ صرف پچاس فی صد ہے۔ بقیہ پچاس فی صد خارجی حالات کا ہے۔ رہنما اگر اس حقیقت کو نہ سمجھے اور اس وہم میں مبتلا ہو جائے کہ پورا ملک صد فی صد اس کے اپنے نام الاٹ ہو چکا ہے تو یہ دیوانگی کی حد تک ایک مہلک غلط فہمی ہو گی۔ اس غلط فہمی کے تحت وہ جو بھی کام کرے گا اس کا نتیجہ صرف تخریب ہو گانہ کہ تعمیر۔
آئیڈیلسٹ بننااچھاہے ۔ مگرعملی حقیقت یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں آئیڈیل کا حصول ممکن نہیں۔ اجتماعی زندگی میں کسی کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی فکری اعتبار سے آئیڈیلسٹ ہونے کے باوجود عملی اعتبار سے پریکٹیکل بن جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues