Al-Risala · July 1998 · page 16

اظہار حق

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۱۶

اظہار حق

قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے : پس تم جمے رہو جیسا کہ تم کو حکم دیا گیا ہے اور وہ بھی جنھوں نے تمہارے ساتھ توبہ کی ہے اور حد سے نہ بڑھو بے شک وہ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو۔ اور ان کی طرف نہ جھکو جنھوں نے ظلم کیا، کیا،ورنہ تم کو آگ پکڑ لے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی مددگار نہیں، پھر تم کہیں مدد نہ پاؤ گے ( ھود ۱۱۲ - ۱۱۳) نیز (بنی اسرائیل ۶۳ ، ۴ - ۴، ۷۵)

سچا داعی اپنے مدعو کا آخری حد تک خیر خواہ ہوتا ہے۔ وہ حرص کی حد تک یہ چاہتا ہے کہ لوگ دین حق کو اختیار کر لیں ایک طرف داعی کا یہ جذبہ ہے اور دوسری طرف وہ یہ دیکھتاہے کہ دعوت کو جب کھلے طور پر بیان کیا جائے تو لوگ اس سے بھٹکتے ہیں قریب ہونے کے بجائے وہ اس سے دور ہو جاتے ہیں۔ داعی جب تنہا ایک خدا کی بڑائی بیان کرتا ہے تو یہ چیز ان لوگوں کو ناگوار ہوتی ہے جو خدا کے سوا کچھ اور لوگوں کی بڑائی اپنے سینے میں لیے ہوئے ہوں وہ جب برائی کی مذمت کرتا ہے تو اس کا یہ اسلوب ان لوگوں کو سخت ناگوار ہوتا ہے جو ان برائیوں میں ملوث ہوں۔

یہ صورت حال دیکھ کر داعی کبھی یہ چاہنے لگتا ہے کہ وہ اپنے اسلوب میں کچھ اعتدال پیدا کرے وہ حق کی دعوت کو ایسے انداز میں بیان کرے جو لوگوں کو اس کے قریب لانے والا ہو۔ مگر اس قسم کا مصالحانہ انداز اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں اللہ کے نزدیک اصل اہمیت اعلان حق کی ہے نہ کہ رعایت عوام کی۔ داعی اگر اپنے اسلوب دعوت میں اس قسم کا مصالحانہ انداز اختیار کرے تو اس کا یہ فائدہ تو ہو سکتا ہے کہ اس کی شخصی مقبولیت میں اضافہ ہو جائے۔ مگر یہ فائدہ اس نقصان کی قیمت پر ہوگا کہ حق غیر واضح ہو کر رہ جائے۔ اور اللہ کی نظر میں اصل اہمیت وضاحت حق کی ہے نہ کہ مقبولیت عوام کی۔

اگر مدعو پر یہی بات واضح نہ ہو کہ حق واقعۃً کیاہے تودعوتی عمل کا سرے سے کوئی فائدہ ہی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues

Printed page