فطرت کے خلاف
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۱۵
فطرت کے خلاف
شری گرومولو الکر آر ایس کے دماغ سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے یکساں سول کوڈ کے تصور کی مکمل مخالفت کی ہے۔ ان کی یہ مخالفت مذہب کی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ فطرت کی بنیاد پر ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ یکساں سول کوڈ دوسرے سے قابل عمل ہی نہیں ۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک غیر فطری اسکیم ہے ۔ انھوں نے کہا کہ فطرت یکسانیت سے نفرت کرتی ہے :
Nature abhors uniformity
اس بات کا تعلق صرف یکساں سول کوڈ سے نہیں ہے بلکہ پوری زندگی سے ہے۔ زندگی کا نظام پورا کا پورا فطرت کے اصولوں پر قائم ہے۔ یہ فطری اصول خود اپنے زور پر قائم ہیں اور وہ ابدتک قائم رہیں گے۔ کسی بھی شخص یا حکومت کے لیے صرف یہ موقع ہے کہ وہ فطرت سے موافقت کرے۔ وہ کسی بھی حال میں اس سے لڑ نہیں سکتا۔ فطرت سے لڑنا ایسا ہی ہے جیسے بھونچال سے لڑنا، اور کون ہے جو بھونچال سے لڑ کر کامیابی کی امید کر سکے۔
تاریخ میں بار بار ایسا ہوا ہے کہ کسی شخص یا گروہ کو اقتدار مل گیا تو اس نے سمجھا کہ ہم جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ اس بھرم کے تحت انھوں نے بڑے بڑے اقدامات شروع کر دیے ۔ انھوں نے چاہا کہ زندگی کے مروجہ نقشہ کو توڑ کر خود اپنی پسند کے مطابق اس کا ایک نقشہ بنائیں ۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی ہر طاقت کے حصہ میں صرف ناکامی آئی۔ فطرت کا نظام جس طرح پہلے قائم تھا اسی طرح وہ بعد کو بھی قائم رہا۔ چنگیز خان سے لے کر نادر خان تک ، اور ہٹلر سے لے کر اسٹالن تک ، اور پھر موجودہ زمانہ کے آمروں اور ڈکٹیٹروں تک ہر ایک اسی کا مصداق ثابت ہوئے ہیں۔ اس معاملہ میں پوری تاریخ انسانی میں کسی کا کوئی استثناء نہیں۔
انھیں فطری اصولوں میں سے ایک اصول یہ ہے کہ اس دنیا میں امن کے لیے بقا ہے جنگ کے لیے بقا نہیں۔ یہاں عدل کو جزاڈ ملتا ہے ظلم کو نہیں۔ یہاں تواضع کو جگہ ملتی ہے گھمنڈ کو نہیں۔ یہ دنیا فراخدلی کو قبول کرتی ہے تنگ نظری کو نہیں۔ یہ فطرت کا اٹل قانون ہے۔ اس قانون سے کسی کا ٹکرانا ایسا ہی ہے جیسے کہ وہ پتھر کی چٹان سے اپنا سر ٹکرانے لگے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues