اسلام تغیر پذیر دنیا میں
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۱۸
اسلام تغیر پذیر دنیا میں
اسلام کا ظہور چودہ سو سال پہلے ہوا۔ پھر آج کی دنیا میں وہ کس طرح قابلِ عمل ہو سکتا ہے؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ زمانہ بدلتا رہتا ہے۔ پھر اسلام جیسا ایک غیر متغیر دین بعد کے زمانہ کے لوگوں کو کس طرح رہنمائی دے سکتا ہے۔ ایک نہ بدلتی ہوئی حقیقت بدلتے ہوئے حالات سے کس طرح ہم آہنگ ہو سکتی ہے۔ یہ سوال تمام تر مفروضات پر قائم ہے۔ اس کے پیچھے غلط فہمی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اسلام نہ کلی معنوں میں غیر متغیر حقیقت ہے اور نہ زمانہ کلی معنوں میں متغیر حقیقت۔ اصل یہ ہے کہ اسلام فطرت کا ایک قانون ہے۔ اسلام کا ایک حصہ وہ ہے جو اسی طرح ابدی ہے جس طرح فطری حقیقتیں ابدی ہوتی ہیں۔ اسلام کا دوسرا حصہ وہ ہے جس میں بدلتے ہوئے حالات کی رعایت پہلے ہی سے موجود ہے۔ خود زمانہ کا معاملہ بھی یہی ہے۔ زمانی حالات کی نوعیت بھی یہی ہے کہ اس میں کچھ چیزیں ابدی طور پر یکساں رہتی ہیں۔ مثلاً سورج سے روشنی لینا اور ہوا سے آکسیجن حاصل کرنا۔ ان کے علاوہ کچھ چیزیں وہ ہیں جو ظاہری طور پر، نہ کہ حقیقی طور پر، بدلتی رہتی ہیں۔ مثلاً سواری یا طرزِ تعمیر وغیرہ۔ ان دوسرے قسم کے معاملات میں اسلام نے پیشگی طور پر ایسی رعایتیں اور گنجائشیں رکھ دی ہیں جو ہر بدلے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہوں اور اس طرح اسلام ہمیشہ اپنی قابلِ عمل ہونے کی حیثیت کو برقرار رکھے۔ یہاں اس مسئلہ کی مختصر وضاحت کی جاتی ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ ان هذا الدين يسر (البخاری، کتاب الایمان) یعنی دین آسان ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دین میں سب آسانی اور سہولت والے احکام ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کا نظام ایسے فطری انداز میں بنایا گیا ہے کہ وہ ہر صورت حال میں قابلِ عمل رہے۔ اہل اسلام کا سفر حیات کبھی بھی کسی ایسے مرحلہ سے دوچار نہ ہو کہ وہ اپنے آپ کو بند گلی (impasse) میں محسوس کرنے لگیں ۔ یہاں اس سلسلہ میں اسلام کے چند اصول درج کئے جاتے ہیں جن سے یہ بات بخوبی طور پر واضح ہوتی ہے کہ حالات کی کوئی بھی تبدیلی اسلام کے لئے مسئلہ نہیں۔ ہر صورت حال میں اسلام اپنی فعالیت کو یکساں
‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues