اسلام تغیر پذیر دنیا میں
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۱۹
طور پر باقی رکھتا ہے۔
ا۔ اسلام کے کچھ احکام وہ ہیں جو بنیادی احکام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ اسی طرح ابدی ہیں جس طرح فطرت کے قوانین ابدی ہیں۔ اسلام کے اسی حصہ کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ ”لا مبدل لكلمات الله (الانعام ٣٤) یعنی اللہ کے کلمات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ یہ اسلام کا وہ حصہ ہے جس میں عقیدہ، اخلاقی اقدار اور بنیادی اصول حیات شامل ہیں۔ یہ تعلیمات سب کی سب ابدی ہیں۔ حالات میں کوئی بھی تبدیلی ان کی قدر و قیمت کو بدلنے والی نہیں۔ مثلاً خدا کو ایک جاننا یا سچ بولنا یا تمام انسانوں کو خون شریک بھائی (blood brothers) سمجھنا وغیرہ۔
تاہم یہاں بھی حالات کی ایک رعایت پیشگی طور پر رکھ دی گئی ہے اور وہ قانون اضطرار ہے۔ اس قانون کے مطابق انسان بس اتنے ہی کا مکلف ہے جتنا اس کے بس میں ہو (البقرہ ۲۸۶) مثلاً اگر حالات کا شدید تقاضا ہو تو اجازت ہے کہ آدمی توحید کو صرف دل سے مانے، وہ زبان سے اس کا اعلان و اظہار نہ کرے ۔ تکلیف بقدر وسع کا اصول ایک عام اصول ہے اور وہ عقیدہ سے لے کر عمل تک ہر چیز پر محیط ہے۔ ۲۔ اس سلسلہ میں دوسرا اصول وہ ہے جو اس حدیث سے مستنبط ہوتا ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ انتم اعلم بامور دنیاکم (صحیح مسلم بشرح النووی ۱۱۸/۱۵) یعنی تم اپنے دنیا کے معاملات کو مجھ سے زیادہ جانتے ہو۔ یہ حدیث ابتدائی طور پر تأبیر نخل ، بالفاظ دیگر ، باغبانی (horticulture) کے بارے میں آئی ہے مگر تو سیعی مفہوم کے اعتبار سے اس میں وہ تمام امور شامل ہو جاتے ہیں جن کا تعلق تعمیر دنیا سے ہے نہ کہ نجات آخرت سے۔ یہ اس سلسلہ میں ایک نہایت اہم رہنما اصول ہے۔ اس نے نجات آخرت کے امور اور تعمیر دنیا کے امور کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا ہے۔ اس کے مطابق، اہل اسلام کو اخروی نجات والے معاملات میں قرآن و سنت سے ہدایت لینا ہے۔ اور جو امور معاملات دنیا کی تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں ان کے بارے میں اپنی تحقیق و ریسرچ کی روشنی میں فیصلہ کرنا ہے۔ اس میں صنعت و زراعت کے تمام شعبے اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی تمام شاخیں شامل ہو جاتی ہیں۔ اس طرح اہل اسلام کو یہ آزادی مل جاتی ہے کہ کسی اعتقادی بندش کے بغیر خالص علمی ریسرچ کی روشنی میں اپنے معاملات کا انتظام وانصرام کرتے رہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues