Al-Risala · August 1998 · page 7

اسلام اور امن

الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۷

اونچی بلڈنگوں کا شہر ہے تو واشنگٹن خوب صورت اور پر عظمت عمارتوں کا شہر۔ یہ 1895-1855 میں امریکیے کی راجدھانی بنا۔ اس کے بعد اس میں مسلسل ترقی ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ اپنی موجودہ پر رونق حیثیت تک پہنچا۔

ایک تقابل

ڈاکٹر مبارک نے ۶فروری کی صبح کو اپنی افتتاحی تقریر میں بتایا کہ نان وائلنس انٹرنیشنل کا موجودہ جلسہ پہلے دمشق میں کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ مگر وہاں کی حکومت نے اس کی اجازت نہیں دی ۔ اس کے بعد وہ اسی مقصد کے لیے قاھرہ گئے مگر وہاں کی حکومت نے بھی قاھرہ میں اس کا جلسہ منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی۔ آخر کار انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس اجتماع کو واشنگٹن میں کریں۔ جب انھوں نے واشنگٹن میں امریکن یونیورسٹی کے ذمہ داروں سے کہا تو انھوں نے نہ صرف اجازت دی بلکہ ہر قسم کا تعاون بھی دیا۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کو اسلام دشمن بتایا جاتا ہے مگر ہمارا تجربہ اس کے برعکس ہے۔ امریکہ میں ہم کو خود اسلام کے کام کے لیے جو مواقع حاصل ہیں وہ اس وقت مسلم ملکوں میں بھی موجود نہیں ۔ حتیٰ کہ بہت سے اسلامک گروپ اپنی سرگرمیوں کے لیے مسلم ملکوں میں موافق ماحول نہ پاسکے۔ چنانچہ اب وہ امریکہ اگر اپنی اسلامی سرگرمیوں کو جاری کی ہوئے ہیں۔ میں نے ایک صاحب سے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے کہ مسلم ملکوں میں اسلامی سرگرمیوں کے مواقع نہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ملکوں میں شخصی نظام قائم ہے اور شخصی نظام ہر عوامی سرگرمی کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے، خواہ وہ اسلام کے نام پر کیوں نہ کی گئی ہو۔

اسلام اور امن

موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا مسئلہ امن کا مسئلہ ہے۔ قدیم زمانہ میں جنگ ایک ایسے واقعہ کا نام تھا جو میدان جنگ میں دو فوجوں کے درمیان پیش آتا تھا۔ بقیہ آبادی سے اس کا کوئی براہ راست تعلق نہ تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں جدید ہتھیاروں کی ایجاد کے بعد جنگ عمومی تباہی کا ذریعہ بن چکی ہے۔ اب جنگ کے معنی ــــ عام آبادی کی ہلاکت، اقتصادیات کی بربادی ، پانی اور ہوا کا زہر آلود ہو جانا، زمین سے لے کر فضا تک ایسا فساد برپا ہونا کہ یہاں معتدل زندگی ہی انسان کے لیے ممکن نہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل ہر جگہ امن کے موضوع پر بحثیں جاری ہیں۔ اور بڑے بڑے اجتماعات

‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues

Printed page