سفر غیر مرغوب
الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۶
ہو چکے ہیں۔ اس کا تیسرا سالانہ اجلاس ۷۔ ۷ فروری ۱۹۹۸ کو واشنگٹن میں ہوا۔ اس کی دعوت پہ راقم الحروف نے شرکت کی۔
۴ فروری کی رات کو دہلی سے روانگی ہوئی۔ اس سفر میں جناب حبیب محمد صاحب بھی میرے ساتھ تھے، پورے راستہ میں ان سے دینی اور علمی باتیں ہوتی رہیں۔ وہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ”فکر اسلامی“ کو میں نے تقریباً دس بار پڑھا ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد میرے ذہن کے تمام گوشے کھل گئے اور اب میں کسی شک و شبہ کے بغیر الرسالہ مشن سے پورا اتفاق کرتا ہوں۔ میں نے کہا کہ جو لوگ الرسالہ مشن کی مخالفت کرتے ہیں، ان کی مخالفت کو میں بد نیتی پر محمول نہیں کرتا۔ یہ تمام لوگ در اصل غلط فہمی کا شکار ہیں۔ یہ سب کے سب لوگ اس عربی مقولہ کے مصداق ہیں کہ: الناس عــدء ما جهلوا (لوگ اس چیز کے دشمن بن جاتے ہیں جس سے وہ بے خبر ہوں) یہ لوگ ایک خاص طرح کی باتیں سنتے اور پڑھتے رہے ہیں یہاں تک کہ ان کے اندر وہ چیز پیدا ہوگئی جس کو علمی زبان میں کنڈیشنڈ تھنکنگ کہا جاتا ہے۔ ایسے لوگ جب الرسالہ اور اس کی مطبوعات کو پڑھتے ہیں تو وہ ان کو نئی اور انوکھی معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا حال وہ ہو جاتا ہے جس کو شاعر نے اپنے اس مشہور شعر میں بیان کیا ہے: آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پر اڑنا منزل بہت کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ ہر اعتبار سے ایک نیا زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں دنیا ر وایتی دور سے نکل کر سائنٹفک دور میں داخل ہوئی ۔ اب ضرورت ہے کہ اسلام کے ابدی اصولوں کو جدید حالات پر از سر نو منطبق کیا جائے ۔ اسی از سر نو انطباق کا شرعی نام اجتہاد ہے۔ ”فکر اسلامی“ میں اس کے مجتہدانہ اصول بتائے گئے ہیں اور الرسالہ مشن کی بقیہ کتابیں گویا اسی کا تفصیلی انطباق ہیں۔ طویل سفر ہندوستان سے امریکہ کے سفر میں آدمی کو کرہ ارض کا نصف حصہ طے کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک طویل سفر ہے۔ ہم تقریباً بیس گھنٹہ راستہ میں گزارنے کے بعد ۵ فروری کو دوپہر بعد واشنگٹن ڈی سی پہنچے۔ ڈی سی کا مطلب ہے : ڈسٹرکٹ آف کولمبیا۔ یہاں کے لوگ اکثر واشنگٹن ڈی سی کو صرف ڈی سی کہتے ہیں۔ واشنگٹن ایئر پورٹ سے ہوٹل تک پہنچنے کے لیے لمبا راستہ طے کرنا پڑا۔ اس طرح ہم نے پہلے ہی دن گویا شہر کے بیشتر حصہ کو دیکھ لیا۔ واشنگٹن پورے معنوں میں سپر پاور کی راجدھانی نظر آیا۔ ماسکو اگر
‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues