امن اور انصاف
الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۱۰
امن اور انصاف
سیمنار میں جو مقالے پیش کیے گئے، میرے نقطہ نظر سے وہ زیادہ واضح نہ تھے۔ امن کے سوال پر موجودہ زمانے کے مسلم ذہن صاف نہیں ہیں۔ اس کا اظہار اکثر مقالات اور تقریروں میں بھی ہوا۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر سہیل ہاشمی کا مقالہ:
جو لوگ عدل کے سوال کو الگ رکھ کر امن قائم کرنا چاہتے ہیں ان کی تردید کرتے ہوئے مقالہ نگار نے کہا کہ میرے نزدیک اسلام کا نقطہ نظر بنیادی طور پر اس سے مختلف ہے۔ امن اور نظم کے بارے میں قرآن کا نقطہ نظر انصاف کے تصور پر قائم ہے۔ انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں : The Islamic approach is, I believe, fundamentally different. The Qur'an's approach to issues of peace and order is rooted in the notion of justice. Without justice there can never be peace. میرے نزدیک یہ اسلام کی صحیح نمائندگی نہ رکھتی۔ اصل یہ ہے کہ دو حالتیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں، اور دونوں کے لیے ایک دوسرے سے مختلف قوانین ہیں۔ ایک صورت وہ ہے جب کہ ایک حاکم کے ماتحت باشندوں میں بدامنی پیدا ہو۔ ایسی حالت میں حاکم کا فرض ہے کہ وہ اپنے ماتحت علاقے میں امن قائم کرنے کے لیے ہر ممکن تدبیر کرے۔ اور اگر ترغیب کے ذریعہ ممکن نہ ہو تو طاقت کو استعمال کر کے امن کو بحال کرے۔ اس کو عام طور پر لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ کہا جاتا ہے اور لا اینڈ آرڈر کے معاملے میں شریعت کا اصول بھی وہی ہے جو سیکولر نظام کا اصول ہے۔
دوسری صورت وہ ہے جب کہ دو آزاد فریقوں کے درمیان نزاع کی حالت برپا ہو جائے اور اس کی ضرورت پیش آ جائے کہ دونوں فریقوں کے درمیان امن اور اعتدال کی فضا قائم کی جائے۔ اس دوسری صورت میں امن کے قیام کے لیے عدل کی شرط لگانا درست نہیں ہے۔ ایسی حالت میں ہمیشہ عدل کے سوال کو علیحدہ رکھ کر امن قائم ہوتا ہے۔ ایسے معاملہ میں امن کے لیے عدل کی شرط لگانا صرف نزاع کو بڑھانا ہے۔ کیوں کہ وہ قابل عمل ہی نہیں۔
اسلام کے عہد اول میں جب کبھی اسلامی حکومت کے ماتحت علاقے میں بدامنی کا مسئلہ پیدا ہوا تو وہاں بشرط ضرورت طاقت کا استعمال کیا گیا، لیکن دوسری صورت میں طاقت کا استعمال نہ ممکن تھا اور نہ کبھی ایسا کیا گیا۔ اس کی ایک نمائندہ مثال حدیبیہ کی صلح ہے۔ اس موقع پر معاملہ دو آزاد فریقوں
‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues