جہاد کا معاملہ
الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۱۱
(مسلمان اور قریش) کے درمیان تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی شرطوں کو مان کر امن قائم کیا۔ اگر چہ یہ شرطیں انصاف کے اصول کے سراسر خلاف تھیں۔
جہاد کا معاملہ
شیخ جودت سعید (دمشق) مشہور عرب عالم ہیں۔ ان کی بے سی کتابیں عربی زبان میں چھپ چکی ہیں۔ تشدد کے موضوع پر انھوں نے میرے خیالات سے مکمل اتفاق کیا۔ انھوں نے کہا کہ تشدد کے ذریعہ کبھی بھلائی نہیں آسکتی (ان العنف لا ياتي بالرشد) اور یہ کہ تشدد کے ذریعہ جو دین لایا جائے وہ دین نہیں (ان الدين الذي يأتي بالعنف ليس بدين)
انھوں نے کہا کہ جہاد کے مسئلہ پر میں نے چالیس سال تک غور اور مطالعہ کیا۔ میری قطعی رائے ہے کہ شرعی اعتبار سے جہاد جہاد(بمعنی قتال) متفرق افراد کا کام نہیں ، بلکہ منظم امت کا کام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف ایک قائم شدہ حکومت ہی جہاد کا حق رکھتی ہے۔
میں نے کہا کہ آپ بالکل درست فرما رہے ہیں۔ چنانچہ فقہاء کا متفقہ قول ہے کہ الرحیل لـلإمـام۔ یعنی جنگ کا اعلان کرنا حاکم وقت کا کام ہے۔ اور وہ بھی اس وقت جب کہ جنگ کے دوسرے شرائط پورے ہو رہے ہوں۔ یہ بہت حد اہم بات ہے۔ جنگ میں متحدہ کمان انتہائی طور پر ضروری ہے۔ اور متحدہ کمان صرف حکومت کے ماتحت جنگی کارروائی ہی میں ہو سکتی ہے۔ افراد اگر جنگ چھیڑیں تو اس کی کوئی ایک متحدہ کمان نہیں ہو سکتی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ افراد کی چھیڑی ہوئی جنگ بہت جلد انار کی بن جائے گی۔ اور صورت حال کو مزید خراب کر کے عظیم تر تباہی کا باعث بنے گی۔
شیخ جودت سعید نے اپنا مقالہ عربی زبان میں پیش کیا۔ تاہم وہ انگریزی زبان بھی سمجھتے تھے چنانچہ میرے مقالہ اور تقریر کو انھوں نے بخوبی طور پر سمجھا۔ جس میں میں نے اسلامی جہاد کو متشد دانہ عمل کے بجائے کامل طور پر ایک پر امن عمل کی حیثیت سے پیش کیا تھا۔ آخر میں ایک گفتگو کے دوران انھوں نے کہا : يا مولانا وحيد الدين ۔ ( انك طرحت في آخرورقتک موضوعاً خطيراً لم ينتبه اليه الناس - انت فتحت هذا الباب لهذا الموضوع الخطير ایک مثال :
امریکہ میں ہر مسلم علاقے کے لوگ ہیں۔ اس لیے وہ تمام مسلم تحریکیں بھی وہاں کم و بیش پائی جاتی
‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues