Al-Risala · August 1998 · page 12

American Muslims under siege.

الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۱۲

ہیں جو امریکہ کے باہر مختلف ملکوں میں موجود ہیں۔ ان میں سے کئی تحریکوں کے کارکن مذکورہ سیمنار میں سرگرم نظر آئے۔ ایک مسلم حلقہ کے کارکن نے اپناماہنامہ مسیج(The (The Message) دیا۔ یہ نومبر، ۱۹۹۷ء کا شمارہ تھا۔ اس کی ایک رپورٹ کا عنوان تھا — امریکی مسلمان محاصرہ میں :

American Muslims under siege.

اس بھیانک عنوان کو دیکھ کر میں نے اس کو پڑھا تو معلوم ہوا کہ یہ مضمون — کھودا پہاڑ نکلی چوہیا کا مصداق ہے۔ اس مضمون کا خلاصہ یہ تھا کہ امریکہ کے جیل خانوں میں مسلمانوں کے اوپر زبردست ظلم کیا جاتا ہے۔ وہ ظلم یہ ہے کہ امریکہ میں جیل خانہ کے قیدیوں کے لیے ایک متعین کپڑا (پریزن یونیفارم) ہوتا ہے۔ کسی جیل میں بعض مسلم قیدیوں نے اپنی الگ شناخت قائم کرنے کے لیے داڑھی بڑھائی اور ٹوپی پہن لی۔ حکام نے کہا کہ یہ قواعد جیل کے خلاف ہے اس لیے آپ داڑھی اور ٹوپی کو چھوڑ کر یہاں کے مشترک یونیفارم کو استعمال کیجیے۔ مضمون نگار نے اس پر سخت احتجاج کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکہ میں طاغوت اور کافر اور مشرک کی حکومت ہے۔ اس لیے یہاں کے مسلمانوں کو اپنا دین بچانے کے لیے اسلامی ملکوں میں چلا جانا چاہیے۔

مضمون نگار جو غالباً کوئی بلیک مسلم ہیں ان کو معلوم نہیں کہ امریکہ کی جیلوں میں تو صرف ڈریس کا مسئلہ ہے۔ مگر وہ ان مسلمانوں کو جن مسلم ملکوں میں بھیج رہے ہیں وہاں ان کو جسمانی تعذیب، ناقص غذا اور طرح طرح کی مشقت کا سامنا پیش آتا ہے۔

بدقسمتی سے اس قسم کی باتیں امریکہ کی تمام مسلم مسجدوں، مسلم اداروں اور یہاں کی نام نہاد مسلم میڈیا میں مسلسل دہرائی جاتی ہیں۔ میں نے امریکہ کے سات سفروں میں صرف ۲ آدمی ایسے پائے جو امریکی زندگی کے مثبت پہلوؤں کا ذکر کرتے تھے۔ بقیہ تمام لوگ کم و بیش امریکہ کی برائی کرتے ہوئے نظر آئے۔ مزید عجیب بات یہ ہے کہ میرے علم کے مطابق ان میں سے کوئی ایک شخص بھی طاغوتی امریکہ کو چھوڑ کر اپنے اسلامی ملک میں جانے کے لیے تیار نہیں۔

ملاقاتیں

واشنگٹن کے سیمنار (فروری ۱۹۹۸) میں مختلف ملکوں کے اسکالر اور پروفیسر شریک تھے۔ بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ پروفیسر عبدالكريم کرو (ناظم سیمنار) مجھے بہت زیادہ سنجیدہ نظر آئے۔ وہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues

Printed page