توسیعی معاشرہ
الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۱۶
توسیعی معاشرہ
امریکہ میں مجھے ایک صاحب کے یہاں کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔ میں نے دیکھا کہ ان کے یہاں ہر چند منٹ کے بعد ٹیلی فون کی گھنٹی بجتی ہے اور وہ بہت دل چسپی کے ساتھ ہر کال کا جواب دیتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے یہاں اتنا زیادہ ٹیلی فون آتے ہیں ان میں جاب یا کاروبار متعلق کتنے ٹیلی فون ہوتے ہیں اور دوستوں اور رشتہ داروں کے کتنے ٹیلی فون۔ انھوں نے کہا کہ کام سے متعلق تو ایک پرسنٹ ہوتا ہوگا۔ 99 فیصد ٹیلی فون دوستوں اور رشتہ داروں کے ہوتے ہیں۔
یہی اکثر ان لوگوں کا حال ہے جو باہر کے ملکوں سے آکر یہاں آباد ہوئے ہیں۔ یہ لوگ ابھی تک اصل امریکی معاشرے کا جزو نہیں بنے۔ وہ یہاں تقریباً اجنبی کے انداز میں رہتے ہیں۔ امریکی سماج سے ان کا تعلق محدود طور پر صرف جاب یا کاروبار کے دائرہ میں ہوتا ہے۔ یہاں وہ لوگ اپنے آپ کو مقامی سوسائٹی سے کٹا ہوا پاتے ہیں۔ ٹیلی فون (یا ماڈرن کمیونی کیشن) ان کے لیے گویا اس کی ایک تلافی ہے۔ امریکی معاشرہ میں بظاہر منقطع ہونے کے باوجود وہ اپنے ان لوگوں کے ساتھ مربوط رہتے ہیں جو نہ صرف امریکہ میں بلکہ دوسرے مقامات پر آباد ہیں۔ وہ عملاً محدود ہونے کے باوجود ایک تو سیعی معاشرہ سے مسلسل جڑے ہوئے رہتے ہیں۔
اس تجربہ کے بعد میں نے سوچا کہ جو لوگ اسلام کا کام کرنے کے لیے "جماعت" کو ضروری قرار دیتے ہیں وہ ایک خلاف زمانہ بولی بول رہے ہیں۔ یہ قدیم زمانہ کی بات ہے جب کہ کسی کام کو کرنے کے لیے جماعتی ڈھانچہ ضروری ہوتا تھا۔ اب ماڈرن کمیونی کیشن (ڈاک، ٹیلیفون، فیکس، انٹرنیٹ، وغیرہ) گویا جماعت کی حسن تلافی ہے۔ اب ایک شخص کو کوئی بڑا کام کرنے کے لیے جماعتی ڈھانچہ بنانے کی ضرورت نہیں۔ وہ ایک مقام پر بیٹھ کر ساری دنیا سے مربوط ہو سکتا ہے۔ وہ محدود جماعت بنائے بغیر زیادہ بڑے پیمانہ پر ایک عالمی جماعت کی سربراہی کر سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قدیم طرز کی جماعت بندی اب صرف مشرقی دنیا کے غیر ترقی یافتہ ملکوں ہی میں پائی جاتی ہے۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں اب ایسے گروپ وجود میں آچکے ہیں جو رسمی تنظیم بنائے بغیر اس کمیونی کیشن کے ذریعہ ایک تو سیعی حلقہ قائم کیے ہوئے ہیں۔ اور وہ فائدے سے زیادہ بڑے پیمانہ پر حاصل کر رہے ہیں جو جماعت یا تنظیم سے متعلق سمجھے جاتے تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues