ایک کیسٹ
الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۱۷
امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں نے ابھی تک ماڈرن کمیونی کیشن کا صرف یہی ایک فائدہ جانا ہے کہ اس کے ذریعے سے وہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کا ایک وسیع تر معاشرہ بناسکیں۔ ان کو شاید نہیں معلوم کہ اس کی ایک اور برتر صورت بھی ہے۔ اور وہ ہے دعوتِ اسلام کے لیے جدید ذرائع کا استعمال۔ اگر یہاں کے مسلمانوں میں یہ دوسرا شعور پیدا ہو جائے تو وہ امریکہ میں ایک نیا اسلامی معاشرہ بناسکتے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں وہ وہاں کے اصل باشندوں سے مربوط ہو جائیں۔ جدید کمیونی کیشن کے ذریعہ وہ یہاں ایک وسیع تر اسلامی دنیا بنا سکیں ۔
ایک کیسٹ
یہاں ایک بار میں ایک صاحب (مسٹر فاروق چشتی) کے ساتھ ان کی کار میں سفر کر رہا تھا۔ انھوں نے کار میں لگے ہوئے ٹیپ ریکارڈر میں ایک آڈیو کیسٹ لگایا۔ اس کے بعد ایک پاکستانی رہنما کی تقریر آنے لگی۔ اس تقریر میں یہ بتایا گیا تھا کہ مسلمان کا اصل مشن یہ ہے کہ وہ دنیا کے ہر دوسرے نظام کو توڑ کر اسلام کا نظام خلافت قائم کریں یہ ان کے لیے فرض عین ہے۔ کسی غیر اسلامی نظام سے ہم آہنگ ہو کر زندگی گزارنا ان کے لیے جائز نہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں یہ مثال ملتی ہے کہ انھوں نے ایک غیر مسلم بادشاہ کی سلطنت کے ماتحت ایک حکومتی عہدہ قبول کیا۔ مگر آپ کی یہ روش امت محمدی کے لیے نمونہ نہیں۔ ہمارے لیے صرف محمد رسول اللہ کا اسوہ ہی واحد قابلِ اتباع نمونہ ہے جیسا کہ قرآن میں آیا ہے : لقد كان لكم فى رسول الله أسوة حسنة (الاحزاب ۲۱)
میں نے کہا کہ یہ استدلال بالکل غلط ہے۔ استدلال کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ دوسری متعلق آیتوں کو سامنے رکھ کر مفہوم متعین کیا جائے نہ کہ صرف ایک آیت کو لے کر اس پر تقریر شروع کر دی جائے۔ میں نے کہا کہ قرآن میں ایک اور مقام پر دوسرے نبیوں (بشمول یوسف) کا ذکر ہے اور اس کے بعد پیغمبر اسلام کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ــــــــ یہ ہیں وہ لوگ جن کو اللہ نے ہدایت دی ، پس تم بھی ان کے طریقہ پر چلو (الانعام ۹۱)اس اس آیت کے مطابق واضح طور پر حضرت یوسف بھی ہمارے لیے قابلِ اتباع ہیں جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔
میں نے کہا کہ یہ ایک غیر علمی استدلال ہے۔ موجودہ زمانہ میں تقریبا تمام مسلم رہنما اور دانشور
‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues