ہدایت کا راز
الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۲۲
ہدایت کا راز
امریکہ میں مسلمانوں کی ایک مجلس میں قرآن کا درس دیتے ہوئے میں نے کچھ باتیں کہیں ۔ ان میں سے ایک بات یہ تھی ۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ یہ اللہ کی کتاب ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ وہ ہدایت ہے متقیوں کے لیے (البقرہ ۲)
قرآن غیر مشتبہ طور پر کتاب حق ہے۔ اس کے باوجود اس سے ہدایت حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پڑھنے والے کے اندر تقویٰ کی صفت موجود ہو۔ گویا یہ نفتی نفتی (نصف نصف) کا معاملہ ہے۔ ہدایت کا نصف تعلق قرآن سے ہے، اور اس کا بقیہ نصف تعلق پڑھنے والے سے۔ پڑھنے والا اگر اپنے حصہ کی نصف شرط کو پورا کرے تو وہ قرآن سے ہدایت پائے گا، اور اگر وہ اپنے حصہ کی شرط کو پورا نہ کرے تو قرآن کو پڑھنے کے باوجود وہ اس سے ہدایت نہیں پا سکتا۔ تقویٰ سے مراد احتیاط اور سنجیدگی ہے۔ غیر محتاط یا غیر سنجیدہ ذہن یہ کرے گا کہ قرآن کی ایک آیت لے کر اپنے ذوق کے مطابق وہ اس کا ایک مطلب نکالے گا اور غیر ذمہ دارانہ انداز میں اس پر تقریر شروع کر دے گا لیکن جس آدمی کے اندر احتیاط اور سنجیدگی کا مزاج ہو وہ قرآن کو پڑھ کر اس پر کھلے ذہن کے ساتھ غور کرے گا۔ وہ اس معاملہ میں دوسرے علماء اور مفسرین کی رائے جاننے کی کوشش کرے گا اس طرح تمام ضروری شرطوں کی تکمیل کے بعد قرآن کا ایک مفہوم متعین کرے گا ۔ میں نے کہا کہ آپ کا حاملِ قرآن ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ آپ ہدایت یاب بھی ہیں۔ ہدایت یاب ہونے کے لیے ایک اور چیز لازمی طور پر ضروری ہے، اور وہ ہے آپ کا حاملِ تقویٰ ہونا۔ جو لوگ صاحبِ کتاب ہوں مگر وہ صاحبِ تقویٰ نہ ہوں تو وہ قرآن کے الفاظ میں ــ کمثل الحمار يحمل اسفاراً (الجمعہ) کا مصداق ہیں ۔
غیر عملی نظریہ نہیں
ایک مجلس میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے انتہا پسند مسلم مفکرین نے غیر ضروری طور پر مسلمانوں کو اس برائی میں مبتلا کر دیا جس کو قرآن میں لم تقولون ما لا تفعلون (الصف) کہا گیا ہے۔ یعنی کہنے اور کرنے میں تضاد۔ ان لوگوں نے خود ساختہ طور پر اسلام کی یہ تعبیر پیش کی کہ جو نظام خدا کی حاکمیت کے اصول پر قائم نہ ہو وہ طاغوتی نظام ہے اور ایسے نظام سے عملی تعاون کسی حال میں جائز نہیں،
‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues