بے شکایت دل
الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۲۶
بے شکایت دل
ایک موقع پر میں نے کہا کہ امریکی مسلمانوں کو میرا پیغام یہ ہے کہ وہ وڈمن ٹومن کے اصول پر اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ ڈالرکانا ان کی ضرورت ہواوردعوہ ورک ان کا مقصد۔ ایک صاحب نے کہاکہ دعوہ ورک کی بات تو ٹھیک ہے۔ مگر اسی کے ساتھ آپ کہتے ہیں کہ امریکیوں (اور مغربی قوموں سے) نفرت نہ کرو۔ یہ تو ناممکن ہے۔ یہ لوگ ہمارے اوپر کھلی زیاد تیاں کرتے ہیں۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ ان کے خلاف نفرت ہمارے دل میں نہ پیدا ہو۔
میں نے کہا کہ دعوت مدعو کے ساتھ خیر خواہی کا عمل ہے۔ اس کا آغاز یہیں سے ہوتا ہے کہ مدعو کے خلاف نفرت کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیا جائے۔ وہ زیادتی کریں تب بھی اس پر صبر کرتے ہوئے ان کے خیر خواہ بنے رہیں۔ دعوت بہت بڑی عبادت ہے۔ اس عبادت کا کریڈٹ صرف ان حوصلہ مندوں کے لیے مقدر ہے جو مدعو گر وہ کی زیادتیوں کے باوجود یک طرفہ صبر کی قربانی دیں۔ نماز کے لیے جس طرح وضو کے ذریعہ پاکی ضروری ہے، اسی طرح دعوت کے لیے بے شکایت دل درکار ہے۔ وضو کے بغیر نماز نہیں۔ اسی طرح بے شکایت دل کے بغیر دعوت نہیں۔
تیسرا آپشن نہیں
امریکہ کے سفر میں مجھے وہاں کے ایک اسلامک سنٹر ٹرنٹن میں ایک جلسہ کو خطاب کرنے کا موقع ملا۔ آخر میں سوال و جواب کا وقفہ تھا۔ ایک امریکی مسلمان نے سوال کیا کہ آج کل امریکہ اور عراق کے درمیان جنگی فضا بنی رہی ہے۔ اگر جنگ ہو تو کیا ہمارے لیے یہ جائز ہو گا کہ ہم امریکہ کا ساتھ دے کر عراق سے لڑیں۔ جب کہ امریکہ ایک غیر مسلم ملک ہے اور عراق ایک مسلم ملک ۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ ایک حلف نامہ کو پر کر کے امریکہ کے شہری بنے ہیں۔ اس میں صاف طور پر یہ لکھا ہوا ہے کہ اگر کسی ملک سے امریکہ کی جنگ ہو تو آپ امریکہ کی طرف سے لڑیں گے۔ ایسی حالت میں آپ کے لیے انتخاب جنگ میں شرکت اور عدم شرکت کے درمیان نہیں ہے بلکہ جنگ میں شرکت یا امریکی شہریت کو چھوڑنے کے درمیان ہے۔ اب آپ کو خود یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آپ کس کو لیں اور کس کو زلیں : For you, the option does not lie between going to war or not going to war. Instead the actual option is between going to war or renounce the American citizenship.
‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues