اقلیتی مسلمان
الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۳۹
اقلیتی مسلمان
اس کانفرنس میں مختلف تنظیموں اور مختلف مکتبِ فکر کے لوگ آئے تھے ۔ ہر ایک اپنے اپنے انداز پر اپنی مطبوعات تقسیم کر رہا تھا۔ ایک صاحب نے مجھے ایک انگریزی مقالہ دیا، جو امریکہ میں مقیم ایک مسلمان پروفیسر کا لکھا ہوا تھا۔ یہ ہندوستانی مسلمانوں کے مسئلہ کے اسلامی حل کے بارے میں تھا۔ اس کے عنوان کے الفاظ یہ تھے :
Indian Muslims: Is there an Islamic solution to the problems of Muslim minorities? میں نے اس مقالہ کو پڑھا ۔ اس کا پہلا جملہ یہ تھا کہ ــ اقلیتیں ہر جگہ خطرہ کی حالت میں ہیں : Minorities are at risk everywhere. میں نے کہا کہ اس مقالہ کا پہلا جملہ ہی غلط ہے۔ اقلیتوں کا اسلامی حل بتانے والے اس مقالہ میں اقلیتوں کے لیے مستقل خطرہ کی خبر دی گئی ہے۔ مگر قرآن کا بیان اس معاملہ میں یکسر مختلف ہے۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ : کم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة باذن الله والله مع الصابرين . (البقرہ ۲۴۹) مذکورہ مقالہ نگار اسلام کے نام پر اقلیتی مسلمانوں کو خطرہ کی خبر دے رہے ہیں حالاں کہ قرآن کے مطابق ، انھیں یہ بتانا چاہیے کہ تمھارا اقلیت میں ہونا تمھارے لیے ایک ایڈوانٹج ہے نہ کہ کوئی ڈس ایڈوانٹج ۔
پھر میں نے کہا کہ یہ کوئی خوش فہمی کی بات نہیں ہے بلکہ فطرت کے قانون کی بات ہے۔ یہ ایک فطری تقاضا ہے کہ جو لوگ بظاہر اقلیت میں ہوں ان کے لیے اقلیت میں ہونا ایک چیلنج بن جائے ۔ اس چیلنج کے نتیجہ میں ان کے اندر وہ اعلیٰ کردار ابھرے جو انھیں اکثریتی گروہ سے بھی زیادہ آگے بڑھا دے۔ اسی قانون فطرت کو مذکورہ آیت میں اذن اللہ کہا گیا ہے۔
امریکی گاؤں
امریکہ کے ” گاؤں “ میں بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ گاؤں کیا تھے۔ نہایت عمدہ سڑک کے کنارے دور دور عمدہ مکانات، ان کے درمیان پارک ، گاؤں میں ہر قسم کی جدید ترین سہولتیں اسی طرح موجود تھیں جس طرح شہروں میں ۔ یہاں شہر اور گاؤں میں صرف یہ فرق ہے کہ شہر میں تجارتی سرگرمیاں
‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues