امتیاز نہیں
الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۳۸
دہلی واپس آنے کے بعد نیو یارک سے جناب ابراہیم صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ کی تقریر کے بارے میں لوگوں کا تاثر بہت غیر معمولی تھا۔ لوگوں نے بتایا کہ تقریر کے دوران تمام حاضرین رو رہے تھے۔ ایسا عجیب منظر تھا جو اس سے پہلے کسی تقریر میں ہم نے نہیں دیکھا تھا۔ میرا احساس یہ ہے کہ حدیث اور واقعات صحابہ کی صورت میں ہمارے پاس جو ذخیرہ ہے وہ ایسا ہے جو ذہنوں کو ہلا دے اور دلوں کو پگھلا دے۔ مگر عام واعظین اور خطباء اکثر ایسا کرتے ہیں کہ وہ حدیث اور واقعات صحابہ کے ساتھ غیر متعلق چیزیں ملا دیتے ہیں۔ مثلاً شاعروں کے اشعار، موضوع روایات، بے بنیاد قسم کی پراسرار کہانیاں، وغیرہ۔ اس لاڈوٹ کی بنا پر ان کی تقریر میں اپنا اثر کھو دیتی ہیں۔ اصلی باتوں کے ساتھ نکتہ فہمی باتیں اور حقیقت کے ساتھ افسانہ کی آمیزش کی یہ برائی پچھلی قوموں میں پیدا ہوئی جس کے نتیجہ میں ان کا دین بے اثر ہو کر رہ گیا۔ یہی خرابی اب خود مسلمانوں میں بہت بڑے پیمانہ پر دیکھنے میں آ رہی ہے۔
امتیاز نہیں
مسٹر فاروق چشتی نے کہا کہ امریکہ میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے مگر مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میرے ساتھ یہاں اس قسم کے تجربات نہیں گزرتے جن کو لوگ امتیازی سلوک کہتے ہیں۔ اس قسم کی بات یہاں بھی ہے اور وہ بلا تفریق ہر سماج میں ہمیشہ مختلف اسباب سے موجود رہتی ہے۔ مگر میرا طریقہ یہ ہے کہ جب بھی میرے ساتھ اس قسم کا تجربہ پیش آتا ہے تو میں اس کو اپنی کی پر محمول کرتاہوں اوراس سے یہ سبق لیتا ہوں کہ مجھے مزید تیاری کر کے اپنے آپ کو اتنا اوپر اٹھانا چاہیے کہ کوئی مجھے نظر انداز نہ کر سکے۔ چنانچہ مجھے جس تجارتی ادارہ میں پہلے انٹرویو میں نہیں لیا گیا تھا، مزید تیاری کے بعد جب میں نے وہاں دوبارہ انٹرویو دیا تو وہ مجھ کو لینے پر مجبور ہو گئے ۔
یہی موجودہ دنیا میں صحت مند نقطہ نظر ہے ”امتیازی سلوک کا نظریہ صرف پست ہمتی اور بے حوصلگی پیدا کرتا ہے مگر مذکورہ نظریہ حوصلے کو بڑھاتا ہے۔ یہاں تک کہ آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے مائنس کو پلس بنا لے۔ وہ بظاہر ناکامی میں بھی کامیابی کا نیا راز دریافت کر لے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues