لاحاصل دھوم
الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۴۱
ہونے والے حالات نے دنیا کو اتنا زیادہ پرکشش بنا دیا ہے کہ لوگ اس پر اسی طرح ٹوٹ رہے ہیں جس طرح شمع کے اوپر پروانے ٹوٹتے ہیں۔ کاش آج کے انسان کو یہ بتایا جا سکے کہ تمہاری اس روش کا انجام بھی یقینی طور پر وہی ہے جو شمع پر ٹوٹنے والے پروانوں کا ہوتا ہے۔ یعنی وقتی راحت اور اس کے بعد ابدی تباہی۔
لاحاصل دھوم
مولاناامام ذکی نے بتایا کہ آخر عمر میں انھوں نے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی سے پوچھا کہ اپنی اسلامی تحریک کے انجام کے بارہ میں آپ کا تبصرہ کیا ہے۔ وہ چند منٹ خاموش رہے۔ اس کے بعد بولے کہ کوئی عمارت صرف اینٹوں سے نہیں بنتی، اینٹوں کے ساتھ اچھامسالہ بھی درکار ہوتا ہے۔ تمثیل کی زبان میں ان کے جواب کا مطلب یہ تھا کہ ہمارے پاس فکرتھامگر اس فکر پر عمل درآمد کرنے کے لیے آدمی نہیں تھے۔ ہم نے پرجوش تقریر اور تحریر کے ذریعہ مسلمانوں کی بھیڑ تو اکٹھا کر لی مگر جب مطلوب عمل کا وقت آیا تو معلوم ہوا کہ یہ بھیڑ اس استعداد سے خالی ہے جو پیش نظر عمل کے لیے درکار ہے۔
میرے نزدیک یہ جواب ادھورا ہے۔ مولانا مودودی کو یہ اعتراف کرنا چاہیے تھا کہ اقبال کی طرح وہ بھی اس غلط فہمی کا شکار ہوئے کہ؛ :ذرانم ہوتویہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان قانون فطرت کے تحت زوال کا شکار ہو چکے تھے۔ دوسرے لفظوں میں، وہ اپنی زرخیزی کھو چکے تھے۔ اب پہلا کام موجودہ مسلم نسلوں کی شعوری تربیت کر کے اس کو دوبارہ زرخیز بنانا تھا نہ کہ اس کو زرخیز مٹی فرض کر کے اس میں دانہ بکھیر دیا جائے۔
بدقسمتی سے موجودہ زمانہ کے تمام مصلحین کا ذہن وہی رہا ہے جس کی ترجمانی اقبال کے مذکورہ مصرعہ میں پائی جاتی ہے۔ ہر ایک نے اس مٹی کو زرخیز فرض کر لیا اور شعری یا نثری رجز خوانی کے ذریعہ اس کو جوش دلا کر بڑی بڑی بھیڑ اپنے گرد اکٹھا کر لی مگر حقیقی نتیجہ کے اعتبار سے دیکھیے تو اس کا حاصل صرف صفر نظر آئے گا۔ کیوں کہ ہری بھری فصل زرخیز زمین کو نم کرنے سے حاصل ہوتی ہے نہ پتھروں کو نم کرنے سے۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس المیہ کی ذمہ داری خود مسلم رہنماؤں پر عاید ہوتی ہے نہ کہ عام مسلمانوں پر۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues