Al-Risala · August 1998 · page 42

بک اسٹال

الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۴۲

بک اسٹال

واشنگٹن کی کانفرنس میں جناب خواجہ کلیم الدین صاحب اور ان کے ساتھیوں نے بک اسٹال بھی رکھا تھا۔ چند میزوں کے اوپر الرسالہ کی مطبوعات قرینہ سے رکھی گئی تھیں۔ بیشتر کتابیں لوگوں نے لے لیں۔ خاتونِ اسلام (انگریزی) کا معاملہ ہاٹ کیک جیسا ہوا۔ اس کا پورا ذخیرہ پہلے ہی دن ختم ہو گیا۔ امریکہ میں اس وقت اسلامی لٹریچر کی شدید ترین ضرورت ہے۔ مگر لٹریچر ایسا ہونا چاہیے جو باہر کے معیار کے مطابق ہو۔ معیار سے مراد یہ ہے کہ اس کا اسلوب بحث جدید علمی اسلوب کے مطابق ہو، اس کی زبان قدیم ادیبانہ طرز کی نہ ہو بلکہ جدید سائنٹفک طرز کی ہو۔ اسی کے ساتھ اس کی چھپائی اور گیٹ آپ وہ ہو جو آج کے انسان کو اپنی طرف متوجہ کر سکے۔ آج کل امریکہ میں انگریزی زبان میں اسلامی کتابوں کی بھرمار ہے مگر ان میں بہت ہی کم کوئی ایسی کتاب ملے گی جو مذکورہ قسم کے مطلوب معیار پر پوری اترتی ہو۔ آزادی فکر ایک تعلیم یافتہ امریکی نے کہا کہ اسلام میں آزادی رائے کا تصور نہیں۔ میرا تجربہ ہے کہ اگر کسی مسلمان کے اندر رائے کی آزادی کا تصور ہے تو وہ وہی مسلمان ہے جس کی تعلیم مغربی طرز کی یونیورسٹی میں ہوئی ہے۔ یعنی اس کا تصور آزادی مغربی تعلیم و تربیت سے آیا ہے نہ کہ اسلام سے۔ میں نے کہا کہ میں نے ایک دن بھی کسی اسکول یا کالج یا یونیورسٹی میں تعلیم نہیں پائی، میں مکمل طور پر دینی مدرسہ کا پروڈکٹ ہوں، اس کے باوجود میں آزادی رائے کا زبردست حامی ہوں۔ میں نے اس موضوع پر بہت سے مضامین لکھے ہیں۔ خاص اسی موضوع پر میری ایک کتاب چھپ چکی ہے جس کا اردو نام ”حریت فکر“ ہے۔ ایسی حالت میں آپ میرے بارے میں کیا کہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ آپ ایک استثناء ہو سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ایسا نہیں۔ آزادی کے بارے میں میں نے اپنا نقطہ نظر براہ راست قرآن و حدیث سے حاصل کیا ہے۔ میں ایک کٹر مسلمان ہوتے ہوئے آزادی رائے کا اتنا ہی حامی ہوں جتنا کہ آپ جیسا کوئی شخص ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو مجھے اس بارے میں اسلام کے نقطہ نظر کو پھر سے سمجھنا ہو گا۔

نیا مستقبل

ایک تعلیم یافتہ مسلمان جو علی گڑھ سے جا کر امریکہ میں آباد ہو گئے ہیں انھوں نے ہندوستانی مسلمانوں

‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues

Printed page