انسانی رعایت
الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۵۰
جہاز اپنے وقت پر نیویارک ایئر پورٹ پر اترا۔ میں جہاز کے دروازے سے نکل کمر باہر آیا تو وہاں بیٹری سے چلنے والی ایک خوب صورت گاڑی کھڑی ہوئی تھی۔ ایک خاتون نے میرا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس پر بیٹھ جائیں۔ اس کے بعد وہ گاڑی مجھے لے کر روانہ ہوئی، کچھ دور چل کر ایک بڑی لفٹ کا دروازہ کھلا، اس لفٹ نے مجھے گاڑی سمیت اوپر کی منزل پر پہنچادیا۔ یہاں ہال کی مانند ایک وسیع کمرہ میں مجھے داخل کیا گیا ۔ اس کمرہ میں ہر قسم کی سہولت کا سامان موجود تھا۔ اس کے وسیع دیواری شیشہ کے باہر فطرت کا خوب صورت منظر مزید اضافہ کے ساتھ برائے مشاہدہ موجود تھا۔ یہاں کئی گھنٹے تک میں نہایت سکون کے ساتھ آرام دہ گدے پر سوتا رہا۔ جب اگلے جہاز کا وقت قریب آیا تو دوبارہ ایئر پورٹ کی ایک خاتون آئیں اور مجھ کو لے جا کر جہاز کے اندر بٹھادیا۔ جہاز جب دہلی ایئر پورٹ پر اترا تو دوبارہ ایک ائیر ہوسٹس آئی۔ اس نے کہا کہ آپ اپنی سیٹ پر بیٹھے رہیں ہم یہاں بھی آپ کے لیے انتظام کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ دہلی میرا وطن ہے۔ یہاں ان شاء اللہ میں خود اس کو مینج کر لوں گا۔ آپ کا شکریہ۔
دہلی میں جب میں اپنے گھر پہنچا تو گھر والوں نے کہا کہ آپ تو اس طرح تازہ دم معلوم ہو رہے ہیں جیسے کہ آپ امریکہ سے نہیں آ رہے ہیں بلکہ قریب کے محلے سے آ رہے ہیں۔ میں نے انھیں بتایا کہ یہ ایک پر اسرار لفظ کی کرامت تھی۔ یہ لفظ ہے ــــــ سینیر سٹی زن۔
معذوروں کی مدد کرنا ہر زمانہ میں پایا جاتا رہا ہے۔ مگر قدیم زمانہ میں اس کی حیثیت زیادہ تر ایک انفرادی اخلاقی صفت کی ہوتی تھی۔ جدید تہذیب نے اس میں یہ اضافہ کیا کہ اس کو ایک باقاعدہ انسٹی ٹیوشن یا سماجی تصور کی حیثیت دے دی۔ جن لوگوں نے مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں کا سفر کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ ان ملکوں میں بوڑھے اور معذور لوگ ” وی، آئی، پی، کی حیثیت رکھتے ہیں ان کے لیے ہر جگہ خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اسی کی ایک مثال وہ تھی جو میرے ساتھ نیویارک ایئر پورٹ پر پیش آئی۔
1 C 4015 slef Exvrey - Eylt # 27 T/c Jamaik - Heanslead 1st left tur - c-lown R/T Next + 93 rd Rd - 50 R/T 224-27 9rd Rd.
‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues