Al-Risala · September 1998 · page 4

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴

ایک آیت

و یوم یعرض الذین کفروا علی النار اذهبتم اور جس دن انکار کرنے والے آگ کے سامنے لائے طیبتکم فی حیاتکم الدنیا و استمتعتم جائیں گے ، تم اپنی اچھی چیزیں دنیا کی زندگی میں لے بھا فالیوم تجزون عذاب الهون بما چکے اور ان کو برت چکے تو آج تم کو ذلت کی سزا دی کنتم تستکبرون فی الارض بغیر الحق وبما جائے گی، اس وجہ سے کہ تم دنیا میں ناحق تکبر کرتے کنتم تفسقون (الاحقاف (۲۰) تھے اور اس وجہ سے کہ تم نافرمانی کرتے تھے۔

اللہ تعالی نے انسان کو اعلی صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ۔ اس کے بعد انسان کو زمین پر بسایا گیا اور اس کو مختلف قسم کے ساز و سامان دیے گئے ۔ اس طرح انسان کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ کائنات کے اس حصہ میں آباد ہو اور یہاں اپنی ایک زندگی بنائے۔ انسان کو یہ موقع ذاتی عطیہ کے طور پر نہیں دیا گیا ہے بلکہ اس کا مقصد صرف ایک ہے ، اور وہ آزمائش ہے۔ انسان کو زمین پر بسا کر ہر ایک کا ٹیسٹ لیا جا رہا ہے اور یہ دیکھا جا رہا ہے کہ کون اس ٹیسٹ میں اپنے کو اچھا ثابت کرتا ہے اور کون برا۔ اس آزمائشی صورت حال نے ہر ایک کے لیے دو میں سے ایک کے انتخاب کا موقع دے دیا ہے۔ اب کوئی اقرار کرنے والا ہے اور کوئی انکار کرنے والا ، کوئی متکبربن کررہتا ہے اور کوئی متواضع بن کر، کوئی فرماں بردار ثابت ہوتا ہے اور کوئی نافرمان ، کوئی مادی روش اختیار کرتا ہے اور کوئی ربانی روش۔ اس امتحان کی حالت نے ہر شخص کو ایک ایسے مقام پر کھڑا کر دیا ہے جہاں اس کو دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے ۔ دنیا کا یا آخرت کا۔ دنیا کے فائدے دکھائی دیتے ہیں اور آدمی کو فوراً حاصل ہو جاتے ہیں، اس کے برعکس آخرت کا فائدہ دکھائی نہیں دیتا اور وہ موت کے بعد کسی آدمی کو ملے گا۔ اب ایک انسان وہ ہے جو خدا کو اپنا مرکزِ توجہ بنائے جس کا مقصود بعد کو آنے والی آخرت ہو، جو آج کی طیبات کو چھوڑے اور آخرت کی طیبات کو وہ اپنی تمناؤں کا مرکز بنائے۔ ایسا انسان خواہ دنیا میں بظاہر کامیاب نہ ہو مگر آخرت کی کامیابی یقینی طور پر اسے حاصل ہوگی ۔ دوسرا انسان وہ ہے جو اپنے مواقع کو دنیا کی دولت اور عزت کے حصول میں لگا دے۔ ایسے لوگ آخرت کی خوشیوں اور لذتوں میں کوئی حصہ نہیں پائیں گے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues

Printed page