پڑوسی کا حق
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۵
پڑوسی کا حق
قرآن وحدیث میں پڑوسی کا بہت حق بتایا گیا ہے۔ امام بخاری نے ابو رافع رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث نقل کی ہے۔ اس کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پڑوسی قریب ہونے کی وجہ سے شفع کازیادہ حق دار ہے (الجار احق بسقبه) مشكوة المصابیح ۴۳/۲ حضرت ابورافع کے واقعات کے ذیل میں بتایا گیا ہے کہ مدینہ میں ان کے دومکانات تھے۔ ان میں سے ایک مکان وہ فروخت کرنا چاہتے تھے۔ ایک شخص نے اس مکان کو پانچ سودینار نقد دے کر خرید نا چاہا مگر ساتھ ہی اس مکان کے ایک اور خواہشمند تھے اور وہ حضرت سعد بن وقاص تھے جو حضرت ابورافع کے پڑوسی تھے۔ انھوں نے اپنے مکان کو حضرت سعد کے ہاتھ فروخت کر دیا اگر چہ اپنی پیش کش کے مطابق، انھوں نے صرف چار سو دینار ادا کیے اور وہ بھی قسطوں میں ۔ اس موقع پر حضرت ابو رافع نے کہا کہ پڑوسی ہونے کے اعتبار سے سعد بن وقاص اس مکان کے زیادہ حق دار ہیں۔
پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک ایک بہت بڑا دینی عمل ہے۔ آدمی کو اس عمل کا بہترین بدلہ آخرت میں ملے گا۔ تاہم دنیا کے اعتبار سے بھی اس اسلامی تعلیم کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اس میں دنیوی حکمت کے بے شمار پہلو چھپے ہوئے ہیں۔
ایک شخص جو آپ کے پڑوس میں ہے وہ آپ کا صبح وشام کا ساتھی ہے۔ اس سے بار بار سابقہ پیش آتا ہے۔ ایسی حالت میں آپ کا پڑوسی اگر آپ سے ناراض ہو تو وہ بے شمار طریقوں سے آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ حتی کہ اگر وہ آپ کے معاملات میں غیر جانب دار ہو جائے تب بھی اس کی غیر جانبداری آپ کے لیے سخت مضر ثابت ہوگی۔
آپ کے حسن سلوک نے اگر آپ کے پڑوسی کو آپ کا دوست بنا رکھا ہو۔ آپ کے احسانات کی بنا پر اس کی فطرت یہ کہہ رہی ہو کہ مجھے بھی احسان کا بدلہ احسان سے دینا چاہیے، تو ایسا پڑوسی آپ کے لیے تمام قیمتی چیزوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ آپ اس کو جتنا فائدہ پہنچائیں گے اس سے کہیں زیادہ فائدہ آپ کو اس کی طرف سے ملے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues