غیبت کا کفارہ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۸
غیبت کا کفارہ
پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا کہ غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ تم اس کے حق میں بخشش کی دعا کرو جس کی تم نے غیبت کی ہے۔ تم یہ کہو کہ اے اللہ، تو مجھ کو اور اس کو بخش دے (إن من كفارة الغيبة أن تستغفر لمن اغتبته اللهم اغفر لنا وله) البيهقى۔
اجتماعی زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کی زبان سے دوسرے کے لئے کچھ برے الفاظ نکل جاتے ہیں۔ جو غیبت کی تعریف میں آتے ہیں، جس کو اگر صاحب معاملہ سنے تو اس کو سخت تکلیف ہوگی۔ غیبت کو خدا کے دین میں گناہ بتایا گیا ہے۔ ایسی حالت میں وہ شخص کیا کرے جس کی زبان سے اپنے بھائی کے لئے غیبت والے الفاظ نکل گئے ہیں۔ اس نے اپنے بھائی کے حق میں اس کی غیر موجودگی میں ایسے کلمات کہہ دئے ہیں کہ اگر وہ اس کو سنے تو اس کے دل کو تکلیف پہنچے گی۔ اس کا حل دین میں یہ بتایا گیا ہے کہ آدمی اس کے حق میں دعا کرے جس کے خلاف غیبت کے الفاظ اس کی زبان سے نکل گئے ہیں۔ وہ اپنے لئے خدا سے بھلائی مانگے اور اپنے بھائی کے لئے بھی خدا سے بھلائی کی درخواست کرے۔ وہ اپنی اصلاح کا طالب بھی ہو اور اپنے بھائی کی اصلاح کا طالب بھی۔ اس قسم کی دعا سادہ طور پر کچھ الفاظ بولنے کا نام نہیں۔ وہ اس شخص کے حق میں خیر خواہی کا اظہار ہے جس کے خلاف غیبت کا فعل ہوا تھا۔ غیبت اپنی حقیقت کے اعتبار سے نفرت اور بدخواہی کا عمل ہے۔ اگر کسی سے اس قسم کا عمل سرزد ہو جائے تو آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنے دل سے نفرت اور بدخواہی کے جذبات کو نکالے اور اس کی جگہ متعلق شخص کے حق میں محبت اور خیر خواہی کے جذبات پیدا کرے۔ اسی محبت اور خیر خواہی کا ایک اعلیٰ اظہار وہ ہے جس کو اس حدیث میں دعا کہا گیا ہے۔
جس سماج میں غیبت عام ہو جائے وہ سماج نفرت اور بے اعتمادی کا سماج بن جائے گا۔ کسی سماج کو اس بگاڑ سے بچانے کی تدبیر یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ اسپرٹ پیدا کی جائے کہ جب کبھی ان کی زبان سے غیبت کے الفاظ نکل جائیں تو اس کے بعد وہ نیک دعاؤں سے دوبارہ اس برائی کو دھودیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues