Al-Risala · September 1998 · page 9

بدگمانی

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۹

بدگمانی

صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں یہ روایت آئی ہے کہ پیغمبر اسلام نے لوگوں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تم لوگ گمان سے بہت زیادہ بچو، کیوں کہ گمان سب سے بڑا جھوٹ ہے (ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث) متفق علیہ۔

گمان یہ ہے کہ آدمی پوری معلومات کے بغیر کسی کے بارے میں ایک رائے قائم کرلے۔ ہر آدمی کی اپنی ایک دنیا ہوتی ہے۔ ہر آدمی کا عمل بہت سے اسباب کے تحت ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں کامل تحقیق کے بغیر کسی کے عمل کی حقیقت کو جاننا ممکن نہیں۔ کوئی شخص کسی کا صرف ایک عمل دیکھ کر اس کے بارے میں کوئی رائے قائم کرلے تو یہ گمان ہوگا۔ اور گمان کسی کے لئے بھی جائز نہیں۔

آدمی کے ہر عمل کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں، اس لئے اس کی توجیہات بھی متنوع اور مختلف ہوتی ہیں۔ دوسروں کے بارے میں آدمی کا مشاہدہ یا تجربہ ہمیشہ جزئی مشاہدہ اور تجربہ ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں کسی کی ایک روش کو دیکھ کر اس کے خلاف برا گمان کرنا گویا جزئی علم کو کلی علم سمجھ لینا ہے۔ ناقص معلومات پر کامل واقفیت کا دعویٰ کرنا ہے۔ اس لئے کسی کے خلاف بدگمانی عین اسی قسم کی ایک چیز بن جاتی ہے جیسا کہ جھوٹ۔

جھوٹ اخلاقی حیثیت سے انتہائی معیوب کلام ہے۔ وہ خدائی شریعت کے اعتبار سے سراسر ناجائز ہے۔ ایسی حالت میں جو آدمی کسی کے خلاف بدگمانی کرتا ہے تو وہ ایک بے حد سنگین جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ ایسا کر کے وہ خدا کی نظر میں اپنے آپ کو ایک غیر مطلوب بندہ بنالیتا ہے۔ اور انسانوں کی نظر میں وہ ایک ایسا شخص بن جاتا ہے جس سے تمام لوگ نفرت کریں۔ جس کو سماج میں باعزت درجہ نہ ملے۔

گمان کی بنیاد پر کسی کے خلاف رائے قائم کرنے سے بہتر یہ ہے کہ آدمی کوئی رائے ہی قائم نہ کرے۔ آدمی رائے قائم نہ کرنے کے لئے آزاد ہے۔ مگر رائے قائم کرتے ہی وہ قابل مواخذہ ہو جاتا ہے۔ اچھا گمان کرنا جائز ہے۔ اور برا گمان کرنا بلا شبہ ناجائز۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues

Printed page