Al-Risala · September 1998 · page 12

بھلی بات

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۲

بھلی بات

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسیلام ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ بولے تو بھلی بات بولے، ورنہ چپ رہے (من کان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيراً أو ليصمت)۔

دنیا کا اکثر بگاڑ کسی غلط بول کا نتیجہ ہوتا ہے اسی طرح دنیا کا اکثر بناؤ کسی اچھے بول کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ایک بول سے لوگوں میں محبت بڑھتی ہے اور دوسرا بول لوگوں میں نفرت پھیلانے کا سبب بن جاتا ہے۔ ایسی حالت میں سنجیدہ اور ذمہ دار آدمی کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی زبان و قلم کو استعمال کرنے میں بے حد احتیاط کرے ۔

زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کچھ لکھنا یا بولنا چاہتا ہے مگر لکھنا یا بولنا اس انسان کے لئے جائز ہے جو مذکورہ پیغمبرانہ ہدایت پر عمل کرے۔ جو شخص اس ہدایت پر عمل نہ کر سکے اس کے لئے لکھنا اور بولنا سرے سے جائز ہی نہیں۔

اس معاملہ کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی کے پاس کہنے کے لئے ایک ایسی بات ہے جو دوسروں کے بارے میں اچھا گمان پیدا کرنے والی ہے۔ جس کی اشاعت سے لوگوں کے درمیان محبت کی فضا پیدا ہونے کی امید ہے۔ جو واضح طور پر ایک ایسی بات ہے جس سے لوگوں کے اندر مثبت ذہن یا تعمیری شوق پیدا ہونے والا ہے۔ اس قسم کی بات بلاشبہ ایک بھلی بات ہے اور اس کو کہنے پر خدا کی طرف سے کوئی پابندی نہیں۔

دوسری صورت یہ ہے کہ آپ جو بات لکھنے یا کہنے جا رہے ہیں وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک منفی بات ہے۔ اندیشہ ہے کہ اس کی وجہ سے لوگوں کے اندر بد گمانیاں پیدا ہوں۔ لوگوں کے اندر اشتعال بھڑ کے ۔ لوگ ایک دوسرے کے خلاف نفرت کرنے لگیں۔ انسانیت دوست اور دشمن میں تقسیم ہو جائے۔ ایسی صورت میں آپ کے اوپر لازم ہے کہ آپ چپ رہیں، نہ کہ بول کر انسانیت کے مسائل میں اضافہ کا سبب بن جائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues

Printed page