Al-Risala · September 1998 · page 11

صحتِ فکر

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۱

صحتِ فکر

روایات میں پیغمبرِ اسلام ﷺ سے جو دعائیں نقل کی گئی ہیں، ان میں سے ایک دعا یہ ہے: اللهم ارنا الحق حقاً وارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه وارانا الاشياء كما هی (اے اللہ، تو ہمیں حق کو حق کی صورت میں دکھا اور ہمیں اس کی پیروی کی توفیق دے اور ہمیں باطل کو باطل کے روپ میں دکھا اور ہمیں اس سے بچنے کی توفیق دے۔ اور اے اللہ، تو ہمیں چیزوں کو ویسا ہی دکھا جیسا کہ وہ ہیں)۔

موجودہ دنیا میں انگنت چیزیں ہیں، اور ہر چیز کے بے شمار پہلو ہیں۔ اسی طرح خود انسان بھی چیزوں کو کسی ایک ہی زاویہ سے نہیں دیکھ پاتا۔ ہر شخص اپنی ذہنی اور قلبی حالت کے تحت چیزوں کو مختلف زاویہ سے اور مختلف رخ سے دیکھتا ہے۔ اس بنا پر ہر آدمی کے لئے اور ہر وقت یہ اندیشہ رہتا ہے کہ وہ کوئی خلافِ واقعہ رائے قائم کرلے، وہ ایک ایسی رائے قائم کرلے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ایسی حالت میں آدمی اگر کوئی درست رائے قائم کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے اسے بہت زیادہ اہتمام کرنا پڑے گا۔ وہ سارے متعلق پہلوؤں کو سامنے رکھ کر اپنی رائے بنائے۔ اسی کے ساتھ وہ مسلسل خدا سے صحتِ فکر کی دعا کرتا رہے۔ کیوں کہ کوئی بھی شخص خدا کی مدد کے بغیر اس دنیا میں درست رائے تک نہیں پہنچ سکتا۔

اس دنیا میں چیزیں اس طرح ملی جلی ہیں کہ ہر وقت یہ اندیشہ ہے کہ آدمی حق کو باطل کے روپ میں دیکھ لے، اور باطل اس کو حق کے روپ میں دکھائی دینے لگے۔ ایسی حالت میں غیر معمولی کوشش کے بعد ہی یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ آدمی حق کو حق کی صورت میں دیکھے، اور باطل اس کو صرف باطل کے روپ میں نظر آئے۔

یہ کسی آدمی کے لئے بہت بڑی نعمت ہے کہ اس کو وہ نگاہ حاصل ہو جائے جو چیزوں کو ویسا ہی دیکھنے لگے جیسا کہ باعتبارِ حقیقت وہ ہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ سب سے زیادہ اسی کی کوشش کرے، وہ سب سے زیادہ اسی کو خدا سے مانگے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues

Printed page