برداشت کا فائدہ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۴
برداشت کا فائدہ
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے غصہ کو ضبط کرے جب کہ وہ اس کے نفاذ پر قادر ہو تو اللہ اس کے دل کو ایمان اور سلامتی سے بھر دیتا ہے (من كظم غضبا وهو يَقْدِرُ علی انفاذه ملأ الله قلبه امنا وایمانا)۔
یہ پیغمبرانہ تعلیم انسانیت کی تعمیر کے لئے شاہ کلید کی حیثیت رکھتی ہے۔ جن افراد کے اندر یہ صفت ہو وہ اعلیٰ روحانی ترقی حاصل کریں گے اور جس سماج کے بیشتر لوگ اس صفت کے حامل ہوں وہ سماج امن و سکون کا گہوارہ بن جائے گا۔
جب ایک آدمی کے اندر کسی کے خلاف غصہ آجائے اور وہ اس غصہ کے اظہار پر قادر ہو اس کے باوجود وہ غصہ کو اپنے اندر ہی اندر ضبط کرلے تو یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں ہوتا۔ ایسا آدمی اپنے اس عمل کے ذریعہ اپنے اندر ایک نئی اخلاقی طاقت کو جنم دیتا ہے۔ وہ ترقی کر کے نیا انسان بن جاتا ہے۔ وہ اپنے اندر نفرت کے بجائے محبت کی پرورش کرتا ہے۔ وہ اپنی شخصیت کو انتقام کے بجائے معافی کے رنگ میں رنگ لیتا ہے۔ وہ اپنے اندر منفی نفسیات کو دباتا ہے اور اس کی جگہ مثبت نفسیات کو فروغ دیتا ہے۔ اس طرح غصہ کو ضبط کرنا اس کے لئے اپنی شخصیت کی تعمیر کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ موجودہ دنیا میں مثبت شخصیت کی تعمیر کا سب سے بڑا کورس یہی ہے۔ اسی کورس سے گزر کر وہ آدمی بنتا ہے جو اعلیٰ انسانی صفات کا حامل ہو۔ جو لوگ غصہ کو ضبط کرنے کی اس تعلیم کو اختیار کرنے پر آمادہ نہ ہوں ان کی شخصیت کی اعلیٰ تعمیر بھی واقعہ بننے والی نہیں۔ غصہ کا اظہار شخصیت کو برہم کرتا ہے اور غصہ کو ضبط کرنا شخصیت کو سکون عطا کرتا ہے۔ غصہ اگر پیچھے کی طرف سفر ہے تو غصہ کو ضبط کرنا آگے کی طرف سفر۔ غصہ یہ ہے کہ آدمی حالات کے درمیان گھر کر رہ جائے اور غصہ کو ضبط کرنا یہ ہے کہ آدمی حالات سے اٹھ کر اپنے جینے کے لئے ایک بلند تر سطح حاصل کرلے۔ غصہ برداشت کرنے میں صرف فائدہ ہے، اور غصہ برداشت نہ کرنے میں صرف نقصان۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues